فلو: 150 ملین لوگ مرسکتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ایک اعلٰی اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ ایک نیا انفلوئنزا وائرس دنیا بھر میں پھیل سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو ملین افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نبارو کا کہنا ہے کہ یہ فلو اس وائرس کی جینیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہو سکتا ہے جو کہ ایشیا میں برڈ فلو پھیلا رہا ہے۔ ڈاکٹر نبارو کوایشیا میں برڈ فلو کے خاتمے کی کوششوں میں اقوامِ متحدہ کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ برڈ فلو پر قابو پانے کے لیے فارمنگ کرنے والے افراد سے رابطہ کریں گے اور ان پرندوں کی خریدوفروخت کے مراکز کا جائزہ لینے کے علاوہ جنگلی پرندوں کی ہجرت کے عمل کا بھی مشاہدہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی فلو وائرس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کا دارومدار اس بات پر ہو گا کہ اس وائرس کی ابتداء کہاں سے ہوئی ، اس کا پتہ کتنی جلدی چلایا گیا اور اس پر قابو پانے کے لیے حکومتوں نے کیا اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ’اس وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد پانچ ملین سے ڈیڑھ سو ملین تک ہو سکتی ہے‘۔ ڈاکٹر نبارو کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہمارا آئندہ چند ماہ کا کام فرق ڈالےگا۔ مثال کے طور پر یہ کہ اگلے وائرس سے ڈیڑھ سو ملین لوگ ہلاک ہوں گے یا پانچ ملین۔ چنانچہ ہماری کارکردگی کی جانچ اس بات سے ہو گی کہ ہم کتنے افراد کی جان بچا سکتے ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||