BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 December, 2006, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹی بی کے خلاف مزاحمت، نیا چیلنج
ٹی بی،پھیلتے جراثیم
دو ہزار چار میں پوری دنیا میں ایک اعشاریہ سات ملین کے قریب اموات ٹی بی کے مرض سے ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق ٹی بی کی مختلف ادویات کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کےزیر اہتمام اناسی ممالک میں ہونے والے سروے جس کی اشاعت لینسٹ رسالے میں ہوئی کے مطابق دوائیوں کے خلاف مزاحمت ٹی بی کے ہر مریض میں پائی جاتی ہے۔

دوائیوں کے خلاف مزاحمت کے اثرات بالخصوص سابق سووویت یونین اور چائنہ کے کچھ علاقوں میں کثرت سے پائی گئی ہے۔

دنیا کے تقریباً ایک تہائی لوگ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہیں، جبکہ آٹھ اعشاریہ نو ملین کی تعداد میں اس مرض میں اضافہ ہو نے کا امکان ہے۔

دو ہزار چار میں پوری دنیا میں ایک اعشاریہ سات ملین کے قریب اموات ٹی بی کے مرض سے ہوئیں۔

ٹی بی کے علاج کے لیے اینٹی مائیکروبیئل دوائیاں کافی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان ادویات کے غلط استعمال سے ایسے جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جو ادویات کے خلاف مزاحمت کے عمل کو اور زیادہ شدید بنا دیتے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ مریض کا ادویات کا کورس مکمل نہ کرنا ہے ۔اگرچہ بیماری کے ظاہری اثرات ختم ہو جاتے ہیں لیکن کچھ جراثیم جسم میں رہ جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ بڑھ جاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے ایک اور خطرناک ٹی بی کی قسم کے بارے میں بتایا ہے جو دوائیوں کے خلاف مزاحمت کے عمل کو اور زیادہ طویل بنا دیتی ہے ،یہ مرض جنوبی افریقہ میں ایڈز کے مریضوں میں پایا گیا ہے۔

انیس سو چورانوے میں عالمی سطح پر ٹی بی کے مرض میں ادویات کی مزاحمت کے بارے میں ایک سروے ہوا تھا ۔اس سروے کے مطابق چار لاکھ چوبیس ہزار کیس ٹی بی میں مختلف ادویات کے خلاف مزاحمت کے بارے میں ہیں۔ان میں سے آدھے کیس چائنہ ،انڈیا اور روس سے تعلق رکھتے ہیں۔

تحقیق کاروں کے مطابق ایک فیصد کے قریب ٹی بی کے کیسیز کا تعلق مختلف ادویات کے خلاف مزاحمت کے حوالے سے ہے۔

پروفیسر پیٹر ڈیویز نے بتایا کہ ٹی- بی کا مرض پریشان کن حد تک عالمی سطح پر پھیل چکا ہے- ’ہمارے پاس نئی ادویات تیار کی جا رہی ہیں لیکن ان کو عام استعمال میں لانے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے۔ بیس سال سے ہمیں یہ پریشانی لاحق ہے، ہمیں ٹی بی کے علاج کے حوالے سے سنجیدہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے‘۔

اسی بارے میں
تپ دق کا خاتمہ، بل گیٹس کا عطیہ
13 February, 2004 | نیٹ سائنس
ٹی بی کی سکرینگ کا نیا آلہ
11 April, 2004 | نیٹ سائنس
ٹی بی کی ناقابلِ علاج قسم
06 September, 2006 | نیٹ سائنس
ٹی بی سے بچاؤ کیلیے دفاعی نظام
22 October, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد