BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹی بی سے بچاؤ کیلیے دفاعی نظام
گزشتہ سال برطانیہ میں آٹھ ہزار لوگ ٹی بی کا شکار ہوئے
سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے جسم کے دفاعی نظام میں ایک ایسے خلیے کا پتا لگایا ہے جوٹی بی جیسی مہلک بیماری سے بچاؤ میں کام آ سکتا ہے۔

جب ٹی بی کی بیماری حملہ آور ہوتی ہے تو جسم میں کچھ خلیے دفاعی نظام کو اس کی اطلاع دیتے ہیں تا کہ اس سے بچا جا سکے۔ تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس اطلاع دینے والے خلیے کو ٹی بی کے بیکٹیریا سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹی بی کے ماہرین اس بات کا شکر کر رہے ہیں کہ اس مہلک بیماری کے خاتمے کے لیے پوری کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ ان کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں آٹھ ہزار لوگ اس کا شکار ہوئے جو کہ 2004 کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے۔ پوری دنیا میں قریباً اڑھائی ملین لوگ ہر سال اس بیماری سے مر جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا کہ بیکٹیریا کے حملے کے بعد جب دفاعی نظام کے کچھ خلیے دفاع کے لیے تیار ہوتے ہیں تو اس وقت ان خلیوں کو ا س بیماری کے خاتمے کے لیے یا کم از کم ٹی بی کی مزید تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ان خلیوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 اس تحقیق سے جسم کی ایک نہایت ہی عمدہ تیکنیک کا پتا چلا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ پہیلی کا اگلا سرا مل گیا ہے کیونکہ اب ہم اس سے بہتر اور مؤثر دوا بنانے کے قابل ہوں گے۔
ڈاکٹر بیٹ کیمپ مین

اس نئی تحقیق میں امپیریل کالج، لندن، کیمبرج و آکسفورڈ یونیورسٹیوں کے ماہرین شامل ہیں۔ جسم کے دفاعی نظام کے ان خلیوں کو سی سی آر فائیو کا نام دیا گیا ہے اور اگر یہ سی سی آر فائیو جسم میں موجود نہ ہو تو دفاعی نظام کو ٹی بی کے حملے کی اطلاع نہیں ہوتی اور وہ اس کا دفاع نہیں کر پاتا۔

ڈاکٹر بیٹ کیمپ مین جو اس تحقیق میں شامل تھے کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے جسم کی ایک نہایت ہی عمدہ تیکنیک کا پتا چلا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ پہیلی کا اگلا سرا مل گیا ہے کیونکہ اب ہم اس سے بہتر اور مؤثر دوا بنانے کے قابل ہوں گے‘۔

ڈاکٹر کیمپ نے مزید کہا’ ہم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے اب موثر ویکسین بنا سکتے ہیں کیونکہ اب ہمیں مزید پتا چل گیا ہے کہ ہم اسے کیسے روک سکتے ہیں‘۔

ٹی بی کی روک تھام کرنے والی موجودہ دوا مکمل حفاظت فراہم نہیں کرتی اور علاج کے موجودہ طریقہ کار میں کم از کم چھ مہینے دوائی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ بہت سے لوگ اس دوائی کا کورس پورا نہیں کرتے جس سے ٹی بی کے اگلے حملے کا خدشہ رہتا ہے۔

کارڈیوتھریسس سنٹر کے سربراہ پروفیسر پیٹر ڈیویز کا کہنا ہے کہ آخر کار ٹی بی کی جنگ میں عالمی تحقیق کار شامل ہو ہی گئے ہیں اور یہ بہت ہی اچھا ہوا ہے کیونکہ ہر سال اس بیماری سے اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں اس کے علاج کے لیے نئی ویکسین کی اشد ضرورت ہے‘۔

اسی بارے میں
زیادہ ڈبل روٹی: کینسر کا خطرہ
21 October, 2006 | نیٹ سائنس
بدلتےموسم،خشک سالی کا خطرہ
20 October, 2006 | نیٹ سائنس
پولیو چار ممالک میں باقی ہے
13 October, 2006 | نیٹ سائنس
’اخروٹ کھائیں، وزن گھٹائیں‘
10 October, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد