ہڈیاں مضبوط کرنے کی دوا بن سکتی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدانوں نے ہڈیوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نئی دوا تیار کی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ دوا ہڈیوں کی بیماری، اوسٹیو پوروسِز، کا علاج ممکن ہو سکے گا۔ اوسٹیو پوروسِز، بیماری میں ہڈیاں گھلنے لگتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا ٹوٹنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہاورڈ ہیوز میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے ماہرین، چوہوں میں ہڈیوں کی کمیت، بہت زیادہ حد تک بڑھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ کارنامہ انہوں نے ایک خاص پروٹین کی صلاحیت تبدیل کرکے سرانجام دیا ہے۔ پروٹین میں معمولی تبدیلی کی وجہ سے ماہرین کو توقع ہے کہ انسانوں میں بھی یہی عمل دہرایا جا سکتا ہے اور اس کے مضر اثرات کے بھی بہت کم ہوں گے۔ یہ تحقیق ’ڈویلپمنٹ سیل‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ فقاریہ یا ریڑھ والے جانوروں میں، ہڈیوں کے گھلنے اور مضبوط ہونے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ ’اوسٹیوکلاسٹس‘ خلیے ہڈیوں کو کمزور کرتے ہیں جبکہ اس کمزوری کا خاتمہ ’اوسٹیو بلاسٹس‘ خلیے کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں توازن اس وقت ہوتا ہے جب دونوں قسم کے خلیوں کی تعداد برابر ہوتی ہے اور اس طرح ہڈیوں کی کمیت مناسب حد تک برقرار رہتی ہے۔ تاہم اگر یہ توازن خراب ہو جائے اور ہڈیاں گھلنے کا عمل، نمو کی نسبت تیز ہو جائے تو اس سے ’اوسٹیو پوروسِز‘ کی بیماری ہو سکتی ہے۔ امریکی محققین، چوہوں میں، ’این ایف اے ٹی سی ون‘ یا ’این فیٹ سی ون‘ نامی پروٹین کی صلاحیت میں تبدیلی کے بعد ہڈیوں کےگھلنے اور پھر سے مضبوط ہونے کے عمل پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس کا آغاز یہ خبر سننے کے بعد کیا کہ جسم کے مدافعتی نظام کو سست کرنے والی ایک دوا، سائیکلو سپورین، کے تجربے کے دوران مریضوں کی ہڈیوں کی کمیت میں کمی ہونے لگی تھی۔ سائیکلو سپورین، بھی این فیٹ سی ون پروٹینز کی ایک قسم ہے اور خلیوں کی شکل اور افعال کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ سائنسدانوں نے، چوہوں میں این فیٹ سی ون پروٹین کی صلاحیت اس طرح سے تبدیل کی کہ وہ زیادہ مؤثر طریقے سے اپنا کام کرنے لگی۔
پروٹین کی کاکردگی بہتر ہونے سے ہڈیوں کی مضبوطی میں بھی اضافہ ہو گیا۔ تحقیق کے دوران ماہرین کو پتہ چلا کہ پروٹین میں تبدیلی کی وجہ سے چوہوں کی ہڈیوں میں اوسٹیوبلاسٹس اور اوسٹیوکلاسٹس، دونوں قسم کے خلیوں کی تعداد مجموعی طور پر بڑھ گئی ہے۔ تاہم اوسٹیو بلاسٹس خلیوں کی تعداد اوسٹیو کلاسٹس کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔ اس طرح ہڈیاں کمزور ہونے کی بجائے، مضبوط ہونے لگیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ این فیٹ سی ون نے اوسٹیو بلاسٹس خلیے بننے کا عمل تیز کر سکتی ہے۔ محقق ڈاکٹر جیرالڈ کریب ٹری کے مطابق، اس عمل کو انسانوں میں دہرانے سے، اوسٹیو پوروسِز کے علاج کے لیے نئی دوا تیار کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کو توقع ہے کہ نئی دوا کے مضر اثرات بھی بہت کم ہوں گے کیونکہ ہڈیوں کی نشوونما کے عمل کو بڑھانے کے لیے این فیٹ سی ون پروٹین کی قدرتی صلاحیت میں بہت کم تبدیلی لائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر کریب ٹری کہتے ہیں کہ ’نتائج بہت مثبت ہیں جبکہ مالیکیولر تبدیلی انتہائی حد تک کم‘ ’اگر آپ ایک چھوٹا سا مالیکیول ڈھونڈ لیں، جو موجودہ این فیٹ سی ون کی کارکردگی میں دس فیصد تبدیلی لا سکے تو آپ اوسٹیو بلاسٹس کے بننے کا عمل تیز کر سکتے ہیں اور ہڈیوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔‘ | اسی بارے میں ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے سیمنٹ20 September, 2004 | نیٹ سائنس انسانی نشوونما کاغذائی افلاس 24 March, 2004 | نیٹ سائنس زیادہ کام، ہڈیاں کمزور12 November, 2003 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||