| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
زیادہ کام، ہڈیاں کمزور
سائنسدانوں نے ایک تحقیق کے بعد یہ بات ثابت کی ہے کہ بہت زیادہ کام کرنے سے انسانی جسم میں ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔ ٹیمپل میں فلاڈیلفیا کی یونیورسٹی میں چوہوں پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ متواتر ایک ہی عمل کرنے سے پٹھوں ، ریشوں اور ہڈیوں پر اثر پڑتا ہے۔ ہڈیوں اور معدنیات پر تحقیقی رسالے میں لکھنے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ادویات بنانے والے ادارے اس تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا بروقت تدارک کرنے کے لیے ادویات تیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلائیوں کے پٹھوں اور ریشوں میں پیدا ہونے والی کمزوریوں کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کئی دوسرے سائنسدانوں نے اس دعویٰ پر شکوک کا اظہار کیاہے کہ کیا یہ کمزوریاں صرف کام کی زیادتی سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طبی مسائل اور گھریلومصروفیات سے بھی یہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے ڈاکٹر این بار اور ان کے ساتھیوں نے چوہوں پر تحقیق کرکے یہ بات معلوم کرنے کا فیصلہ کیا کہ متواتر ایک ہی کام کرنے سے ان پر کیا اثر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر بار نے کہا کہ گو بہت سے عوامل جن میں دل کی بیماریاں، ذیابیطس اور گھریلو پریشانیاں بھی جسم پر اثرانداز ہوتی ہیں لیکن انہوں نے کام کی زیادتی سے پڑنے والے اثر کو دیکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا بہت زیادہ تواتر سے ایک ہی کام کرنےسے چوہوں پر اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے چوہوں نے یا تو اپنی رفتار کم کردی یا پھر حرکت کرنا بالکل بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ تواتر کے ساتھ ایک ہی عمل کرنے کا براہ راست اثر کام کی رفتار ، پٹھوں میں کھنچاؤ، ہڈیوں اور اعصاب پر پڑتا ہے۔ ان اثرات کا تعلق عمل کے تواتر سے ہے۔ جتنا زیادہ تواتر سے عمل کیا جائے گا اس کا اتنا ہی اثر جسم پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس تحقیق سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اس کی روشنی میں ادویات اور دفاتر، صنعتی اداروں اور دوسری جگہوں پر کام کرنے والوں کے لئے ہدایت نامے بنائے جا سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||