انسانی نشوونما کاغذائی افلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر تیسرے شخص کو مناسب مقدار میں غذائی اجزاً میسر نہیں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس غذائی کمی سے لاکھوں افراد کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ یونیسیف نے شائع ہونے والی اپنی اس رپورٹ کے بعد صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوری ایقدامات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے غربت میں کمی لانا ہوگی، بچوں کی اموات کی شرح کو کم کرنا ہوگا اور ماؤں کی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ سب تبھی ممکن ہوگا جب اچھے غذائی اجزاً میسر کرائے جائیں۔کیونکہ اگر ان غذائی اجزاً کی فراہمی وافر مقدار میں نہیں کرائی جا سکی تو لوگوں کی عقل و شعور کی صلاحیتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر ان اہم جزیات کی کمی اسی طرح برقرار رہتی ہے تو خدشہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد خون کی کمی اور اندھے پن کا شکار ہو جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر استعمال کی جانے والی خوراک میں کوشش کر کے اہم اور ضروری اجزاً شامل کئے جانے چاہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسہال،ملیریا، اور خسرہ جیسی بیماریوں کی روک تھام کے لئے موزوں اقدامات لیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||