غصہ اپنی جان پر ظلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طبی سائنسدانوں کے مطابق زیادہ غصیلی طبیعت والے نوجوان اپنی صحت کے لیے مسائل پیدا کر لیتے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جن نوجوانوں کو غصہ آتا ہے وہ اپنی صحت کے لیے مسائل پیدا کر لیتے ہیں اور وہ موٹاپے کی طرف بھی مائل ہوجاتے ہیں۔ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محققین نے کہا کہ غصہ کو دبانے سے بھی صحت کی خرابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دل کے معالجوں کا کہنا ہے کہ موٹاپے کی وجہ سے دل کی بیماری لاحق ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ٹیکساس یونیورسٹی میں قائم صحت کے مرکز میں ڈاکٹروں نے ایک سو ساٹھ بچوں کا جن کی عمریں چودہ سے سترہ سال کے درمیان تھیں، تین سال تک مشاہدہ کیا۔ انہوں نے نفسیاتی طریقے استعمال کرکے یہ مشاہدہ کرنے کی کوشش کی کہ ان بچے اور بچیوں کا غصے میں کیا رد عمل ہوتا ہے۔ اس مشاہدے سے انہیں معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے غصہ پر قابو پا لیتے ہیں ان میں موٹاپے کی طرف مائل کرنے والا مادے کم پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ جن لوگوں کو اپنے غصے پر قابو پانے میں مشکل پیش آتی ہے ان میں ایسے فاسد مادے زیادہ پیدا ہوتے ہیں جس سے ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ولیم میولر کے مطابق غصے میں غیر صحت مندانہ رد عمل کے باعث وزن بڑھنے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ غصے کے باعث لوگوں کے کھانے پینے کے اوقات خراب ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں دل کے امراض کم عمری ہی میں جنم لینے لگتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں کے نفسیاتی مسائل کو حل کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ورزش اور غذا سے حل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے نفسیاتی مسائل کا بھی حل ضروری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||