’اخروٹ کھائیں، وزن گھٹائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد اخروٹ کھانے سے خوراک میں شامل مضر صحت چکنائی کا اثر کم ہوجاتا ہے۔ چکنی خوراک شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور اخروٹ کھانے سے یہ نقصان کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ سائنسدانوں کاخیال ہے کہ اخروٹ میں ایسے مادے پائے جاتے ہیں جو شریانوں کے چکنائی جمع کرنے کی صلاحیت کو کم کردیتے ہیں۔ بارسلونا کے ایک ہسپتال کے ماہرین نے کہا ہے کہ ہر فرد کو روزانہ 28 گرام اخروٹ کھانے چاہیئیں۔ یہ تحقیق امریکہ کے جرنل آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اخروٹ صحت کے لیئے زیتون سے بھی زیادہ مفید ہیں۔ تحقیق کے دوران 24 افراد کی خوراک کا معائنہ کیا گیا۔ ان میں سے نصف کا کولسٹرول لیول نارمل تھا جبکہ کچھ میں اس کا تناسب زیادہ تھا۔ دونوں گروپوں کے افراد کو ہر ہفتے زیادہ چکنائی والی غذا دی گئی۔ ایک خوراک میں پانچ چمچہ زیتون کا تیل بھی شامل کیا گیا جبکہ اگلی مرتبہ اس کی جگہ آٹھ اخروٹ دیئے گئے۔ تجربات سے ثابت ہوا کہ زیتون کے تیل اور اخروٹ دونوں اجزاء سے شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کا عمل سست پڑ گیا۔
اگر شریانوں میں کچھ عرصہ تک چکنائی جمع ہوتی رہے تو یہ شریانوں کو سخت کردیتی ہے جس سے دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقات کاروں کے مطابق اخروٹ نے جسم کی چکنائی پر زیتون کے تیل سے بھی زیادہ اثر دکھایا اور شریانوں کو مزید لچکدار کردیا۔ اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ایمیلو روز کا کہنا ہے کہ چکنی خوراک کھانے سے چکنائی شریانوں کے اندرونی حصوں میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ اخروٹ میں ایک ایسا امینو ایسڈ پایا جاتا ہے جس سے نائٹرک آکسائیڈ پیدا ہوتا ہے جو شریانوں کو لچکدار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم ایمیلو روز نے متنبہ کیا ہے کہ لوگ اس تحقیق سے یہ مطلب اخذ نہ کریں کہ وہ اخروٹ کے ساتھ چکنی اور مضر صحت غذا کھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحتمند معمول کے لیئے ہم سب کو اپنی خوراک میں اخروٹ کا اضافہ کرلینا چاہیئے۔ | اسی بارے میں ہڈیاں مضبوط کرنے کی دوا بن سکتی ہے08 October, 2006 | نیٹ سائنس شوگر کےمریضوں کیلیئے امید24 September, 2006 | نیٹ سائنس انڈین ویٹ لفٹروں پر تاحیات پابندی10 April, 2006 | کھیل موٹے افراد وزن کم کرنا نہیں چاہتے09 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||