شوگر کےمریضوں کیلیئے امید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ماہرین کے مطابق صرف ایک واحد پروٹین ذیا بیطس کے مرض کو بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی ٹیم کی تحقیق کے مطابق کیلسینیرین، انسولین میں بِیٹا سیل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چوہوں پر کیئے گئے تجربات میں دیکھا گیا کہ پروٹین ذیا بیطس سے متعلقہ دس جینز کو فعال کرتی ہے۔ اس مطالعہ سے پوری دنیا میں ذیا بیطس سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کے لیئے نئی امید بندھ گئی ہے۔ ذیا بیطس کے مرض میں بِیٹا سیل ضرورت سے کم انسولین پیدا کرتے ہیں یا بعض صورتوں میں کرتے ہی نہیں جس کے باعث جسم کے خلیے کھانے کے بعد شوگر جذب نہیں کرپاتے۔ ضرورت سے زیادہ شوگر خون میں جمع ہوکر خون کی نالیوں، گردوں اور آنکھوں کے لیئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ سٹینفورڈ ٹیم نے متنبہ کیا ہے کہ وہ ادویات جوجسم کو سن کرنے کا کام کرتی ہیں اور عموماً تبدیلی اعضاء کے آپریشن میں کام آتی ہیں، ذیا بیطس کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ ماہرین نے تحقیق کے دوران چوہوں کی نئی نسل کے پیدا ہونے سے پہلے تک ان کے لبلبوں میں کیلسینیرین پیدا کی۔ پیدائش کے بعد ان چوہوں کے لبلبوں نے پروٹین پیدا کرنی چھوڑ دی اور پیدائش کے بعد بارہ ہفتوں کے اندر یہ چوہے جو نارمل بِیٹا سیل کی مقدار لے کر پیدا ہوئے تھے، ذیابیطس کا شکار ہو گئے۔ اس تجربے میں کیلسینیرین کی مقدار کم کر کے بِیٹا سیل کو کنٹرول کیا گیا اور پہلے سے موجود بِیٹا سیل کی پیدا کی گئی انسولین کی مقدار کو کم کرنا بھی ممکن ہوسکا۔ محقق ڈاکٹر جیریمی ہائٹ کا کہنا ہے کہ ’ اس تحقیق سے ذیا بیطس کے علاج کے متعلق نئی راہیں کھلی ہیں۔ ابھی تک ذیا بیطس کے صرف ایک جینز یا عمل کا پتا چلا تھا جبکہ اس تجربے سے سامنے آیا ہے کہ تحقیقات کیلسینیرین کی فعالیت سے متعلق ہیں‘۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ادویات کے ذریعے کیلسینیرین کی فعالیت کو بڑھایا جا سکتا ہے جو کہ ذیا بیطس کی قسم ٹائپ ٹو کے علاج میں معاون ہو سکتی ہے جس میں بیٹا سیل انسولین کی مطلوبہ مقدار پیدا نہیں کرتے۔ ان ادویات کے ذریعے ان بِیٹا سیل کو بھی کنٹرول کیا جا سکے گا جو مطلوبہ مقدار سے زیادہ انسولین پیدا کرتے ہیں۔ کیلسینیرین کی فعالیت میں معاون ادویات کے ذریعے خلیوں کی تقسیم کے عمل کو تیز کیا جا سکے گا جس سے تبدیلی اعضا کے آپریشن میں مدد ملے گی۔ امریکی ذیا بیطس ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر سکاٹ کیمبیل کا کہنا ہے کہ’ اس تحقیق میں مزید توسیع کے امکانات روشن ہیں۔ یہ کافی بڑا قدم ہے اور اب ہمیں اسے انسانوں پر آزما کر دیکھنا چاہیئے‘۔ ذیا بیطس (برطانیہ) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر انجیلا ولسن نے اسے دلچسپ مطالعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ذیا بیطس کی دوسری قسم کے علاج کے لیئے نئی ادویات کی تحقیق بڑی خوش آئند ہے اور متاثرہ افراد کے لیئے بڑی خوش کن ہے مگر یہ ابھی ابتدائی سطح پر ہے اور ہم منتظر ہیں کے کب یہ چوہوں سے نکل کر انسانوں کے لیئے استعمال ہو گی‘۔ | اسی بارے میں ذیابیطس: مریضوں کے لیےخوشخبری28 January, 2006 | نیٹ سائنس ایشیا میں ذیابیطس کا شدید خطرہ23 February, 2006 | نیٹ سائنس بالواسطہ تمباکو نوشی سے ذیابیطس07 April, 2006 | نیٹ سائنس چینی جڑی بوٹی سے شوگر کا علاج13 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||