ایشیا میں ذیابیطس کا شدید خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیائی ممالک میں ذیابیطس کا خدشہ بڑھ رہا ہے اور خصوصاً بچے بھی اب اس کا شکار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ویتنام میں ذیابیطس کا کم عمر ترین مریض ایک گیارہ سال کا بچہ ہے جبکہ جاپان میں ایک نو سال کے بچے کو بھی شوگر کا مریض پایا گیا ہے۔ سنگاپور میں حکومت نے ’ٹائپ ٹو ذیابیطس‘ کے خلاف ’وزن گھٹاؤ اور صحت مند بنو‘ کے نام سے مہم شروع کر دی ہے۔ ذیابیطس کی عالمی فاؤنڈیشن کے وائس چیئرمین نے ویتنام میں ذیابیطس کی عالمی کانفرنس میں کہا کہ ’اب بچوں کو ایسی بیماریاں بھی ہو رہی ہیں جو ان کے والدین یا دادا دادی کو ہوتی تھیں‘۔ ذیابیطس کی وبا دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت ایشیا میں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کی شرح ماہرین کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ آئندہ بیس سالوں میں ایشیا میں ذیابیطس کے کیس نوے فیصد تک بڑھ جائیں گے۔ یہ بیماری اور اس سے ہونے والے مسائل اکیسویں صدی میں صحت کے حوالے سے سب سے بڑا بحران کھڑا کریں گے۔ وکٹوریا میں ذیابیطس کے بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پال ذمیٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم اگلے بیس سال میں تینتیس کروڑ لوگوں کے اس بیماری کا شکار ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ برڈ فلو اور ایڈز سے بھی گھمبیر ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ درست ہے کہ آپ کو برڈ فلو کا مسئلہ عالمی سطح پر پیش آ سکتا ہے۔ لیکن ذیابیطس سے آپ کونیو یارک کی سڑکوں پر جا بجا لوگ خود کار وہیل چیئرز پر نظر آئیں گے کیونکہ ان کے اعضاء کاٹے جا چکے ہو گے، یا ایسے لوگ نظر آئیس گے جو اندھے ہو گئے ہیں یا ان کے گردے ناکارہ ہو چکے ہیں‘۔
ایشیا میں پہلے بھی بہت زیادہ کیس موجود ہیں۔ دنیا میں ذیابیطس کے شکار ملکوں میں سے چار ایشیا میں ہیں۔ بھارت میں ذیابیطس کے تین کروڑ تیس لاکھ مریض ہیں جبکہ چین، پاکستان اور جاپان میں بالترتیب دو کروڑ تیس لاکھ، نوے لاکھ اور ستر لاکھ مریض موجود ہیں۔ جزیرہ نارو میں دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریض ہیں۔ یہ بیماری کسی حد تک موروثی بھی ہے لیکن بدلتے ہوئے غیر متوازن خوراک اور جسمانی ورزش کی کمی کا رجحان بھی اس کی وجہ بن رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے گاؤڈن گیلی کا کہنا ہے کہ ’ہنوئی میں جہاں پچھلے دس سال کے دوران لوگ سائیکلوں کو چھوڑ کر موٹر سائیکل استعمال کرنے لگ گئے ہیں، ذیابیطس کی شرح دوگنی ہو گئی ہے‘۔ خوراک میں بھی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور اب بہت زیادہ لوگ باہر کا کھانا اور خصوصاً فاسٹ فوڈ کھانے لگے ہیں۔ گھر سے باہر تیار کیے گئے روایتی کھانے بھی اب صحت کے لیے زیادہ موزوں نہیں رہے۔ ڈاکٹر کپور کے مطابق نئی دلی میں جہاں ہر چھ میں سے ایک بچہ موٹاپے کا شکار ہے نوجوان اوسطاً ہفتے میں تین دفعہ باہر کھنا کھاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق چین کے بڑے شہروں میں سات سال سے زائد عمر کے تقریباً بیس فیصد بچوں کا وزن زیادہ ہے۔
مدراس میں ذیابیطس کے تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر وی موہن کا کہنا ہے کہ ایشیا اور پیسفک کے کچھ علاقوں میں موروثی وجوہات بھی ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں تحقیق کے مطابق انڈین لوگوں میں کچھ ایسے جینز پائے جاتے ہیں جن سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ذیابیطس کے خلاف مدافعت کرنے والے جینز کم پائے جاتے ہیں۔ دیگر تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق حاملہ خواتین میں خوراک کی کمی بھی بعد میں ماں اور بچے میں ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہیں۔ طویل عرصے پر محیط بیماری ہونے کے ناطے یہ جسم کو آہستہ آہستہ کئی طریقوں سے ضعیف کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر کپور کا کہنا ہے کہ ’یہ جسم کے ہر نظام کو متاثر کرتی ہے‘۔ ذیابیطس کی عالمی فاؤنڈیشن ذیابیطس کے بچاؤ کی کوششوں میں تعاون کرتی ہے۔ اس کی توجہ کا خصوصی مرکز غریب مریضوں میں اندھے پن اور اعضاء کے ضیاع سے بچاؤ ہے۔ تاہم ابھی تک اس بیماری کے بارے میں شعور بہت کم ہے۔ حتیٰ کہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو بھی اس کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایشیا کے زیادہ تر ممالک اس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے ہسپتال بھر جائیں گے اور صحت کے بجٹ پر بہت بڑا بوجھ پڑے گا۔ ڈاکٹر موہن نے کہا کہ ’بھارت میں ہسپتالوں کو ابھی سے اس کا اندازہ ہو رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی حکومتوں کو اب اس کے بارے میں عملی اقدام کرنے چاہئیں۔ |
اسی بارے میں ذیابیطس: مریضوں کے لیےخوشخبری28 January, 2006 | نیٹ سائنس ذیابیطس:انجیکشن سے نجات؟09 September, 2005 | نیٹ سائنس ذیابیطس اور موٹاپے میں تعلق18 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||