وٹامن ڈی سے کینسر میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وٹامن ڈی کے زیادہ مقدار میں استعمال سے کینسر کی کئی اقسام کوپچاس فیصد تک کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تحقیق کاروں نے تریسٹھ تحقیقاتی رپورٹوں کے مطالعے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی یقینی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس کاوش کا خیر مقدم کیا ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ وٹامن ڈی کی زیادتی سے گردے اور جگر متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس وٹامن کی قدرتی شکل جسے ڈی 3 کہا جاتا ہے عام طور پر سورج کی شعاؤں سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ چند غذاؤں میں بھی پائی جاتی ہے جن میں گوشت مکھن اور چکنائی والی مچھلی شامل ہیں۔ تحقیق کاروں نے اپنے مطالعے کے دوران خون میں وٹامن ڈی کی مقدار اور کینسر کے خطرے کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ افریقہ کے لوگوں میں کینسر کے خلاف کم مدافعت پائی جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی سیاہ جلد وٹام ڈی کو بنانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتی۔ تحقیق کے دائرے میں لائی گئی رپورٹوں کا تعلق 1966 سے 2004 کے درمیانی عرصہ سے ہے جو کینسر کی سب سے عام قسموں کے متعلق ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینسر کی کچھ ایسی اقسام ہیں جن میں وٹامن ڈی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وٹامن ڈی کی پچیس مائیکروگرام مقدار کے روزانہ استعمال سے کینسر کا خطرہ پچاس فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ تاہم تحقیق نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس وٹامن کی زیادہ مقدار بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر سیڈرک جیرالڈ کا کہنا ہے کہ’طب کی دنیا کی بہترین تحقیق پر غور کرنے سے یہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ سورج کی روشنی کی عدم موجودگی میں خوراک اور ’فوڈ سپلیمنٹ‘ کے ذریعے وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سورج کی شعاؤں میں بھی کینسر کا خطرہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ’سیاہ رنگت والے لوگوں کو وٹامن بنانے کے لیے سورج کی شعائیں زیادہ دیر تک لینی پڑتی ہیں‘۔ انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے پروفیسر کولن کوپر کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ اگر آپ کسی ایک تحقیق کا مطالعہ کریں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ثبوت صرف ایک رائے کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی حتمی نتیجہ نہیں بتا سکتے‘۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ ’تحقیق کار یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ وٹامن کی کم مقدار کس طرح کینسر کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے؟‘ ایسوسی ایشن آف کینسر ریسرچ کے پروفیسر مارک میٹفیلڈ نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ یہ تحقیق وٹامن ڈی کے فوائد کے بارے میں کوئی حتمی ثبوت فراہم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ٹھیک ہے کہ وٹامن ڈی اور کینسر کے مرض کے درمیان ایک تعلق ظاہر ہو رہا ہے لیکن یہ صرف ایک تعلق ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’انسانی جین بنانے کا جھوٹا دعویٰ‘24 December, 2005 | نیٹ سائنس برڈ فلو: واحد دوا کے خلاف مدافعت 22 December, 2005 | نیٹ سائنس انسانی جلد کے رنگ کا راز 19 December, 2005 | نیٹ سائنس دیر ہو گی تو لڑکا ہو گا16 December, 2005 | نیٹ سائنس سردی سے بچوں میں کینسر12 December, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||