دیر ہو گی تو لڑکا ہو گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر کوئی عورت حاملہ ہونے میں زیادہ وقت لیتی ہے تو اس بات کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا۔ نیدرلینڈ کے تحقیق کاروں نے عورتوں کے ایک گروہ پر تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر عورت حاملہ ہونے میں بارہ ماہ سے زیادہ وقت لیتی ہے تو 58 فیصد امکانات ہیں کہ اس کے گھر لڑکا پیدا ہو گا۔ اس کے برعکس بارہ ماہ سے کم عرصے میں حاملہ ہونے والی خواتین میں یہ امکانات 51 فیصد ہیں۔ نیدرلینڈ کی ماسٹرچ یونیورسٹی میں سائنسدانوں نے جولائی دو ہزار ایک اور جولائی دو ہزار تین کے درمیان بچوں کو جنم دینے والی پانچ ہزار سے زائد خواتین کے اعدادوشمار کا تجزیہ کیا۔ تجزیے کے بعد انہوں نے نتیجہ نکالا کہ حاملہ ہونے میں مزید ایک اضافی سال لینے سے خواتین میں لڑکا پیدا کرنے کے امکانات چار فیصد بڑھ جاتے تھے۔ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس بات کی ممکنہ وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ سپرم میں ’میل وائے‘ کروموسوم ’فیمیل ایکس‘ کروموسوم کی نسبت تیز تیرتا ہے ۔ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ جو عورتیں حاملہ ہونے میں زیادہ وقت لیتی ہیں ان کے رحم کے نیچلے حصے میں زیادہ لیس دار مادہ ہوتا ہے جس میں کروموسومز کے لیے تیرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا مطلب ہے کہ اسطرح کی خواتین میں ’وائے میل‘ کروموسوم بیضے کے پاس ’فیمیل ایکس‘ کروموسوم کی نسبت جلدی پہنچ کر اسے فرٹیلائز یا بارور کر دیتا ہے۔ |
اسی بارے میں پیدائش میں دیر، قدرت کی مخالفت16 September, 2005 | نیٹ سائنس بچی اپنی نانی کے پیٹ میں پلی01 October, 2005 | نیٹ سائنس ’یورپ میں بانجھ پن دوگنا‘21 June, 2005 | نیٹ سائنس بانجھ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش25 September, 2004 | نیٹ سائنس دایاں یا بایاں: پیدائش سے پہلے 24 July, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||