پیدائش میں دیر، قدرت کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ خواتین جو اپنی زندگی کے تیسرے عشرے کے اواخر تک اولاد پیدا کرنے کا انتظار کرتی ہوں وہ نہ صرف قدرتی نظام کی مخالفت کرتی ہیں بلکہ ان میں مایوسی کا شکار ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ بات لندن کے گائناکولوجسٹس نے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں کہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں بننے کی بہترین عمر بیس سے پینتیس برس کے درمیان ہے۔ حمل کے دوران انتہائی خطرے کا شکار خواتین کا علاج کرنے والی ڈاکٹر سوزین بیولی کا کہنا ہے کہ خواتین میں عمر کے ساتھ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت پینتیس برس کے بعد متاثر ہونا شروع ہوتی ہے اور چالیس برس کے بعد اس میں تیزی سے کمی آتی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ بچہ پیدا کرنے کا بہترین وقت پینتیس برس تک ہے۔ یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ’ میں خواتین کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا رہی اور نہ ہی انہیں خوفزدہ یا پریشان کرنا چاہتی ہوں‘۔ دیگر ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ خواتین کو اولاد پیدا کرنے کے عمل کو اتنا ملتوی نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق مردوں کو بھی عمر کے ساتھ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی کا مسئلہ درپیش آ سکتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ایک بڑی عمر کی خاتون حاملہ ہوتی ہے تو وہ برطانیہ میں گزشتہ بیس برس کے دوران پینتیس برس سے زیادہ عمر میں خواتین کے ماں بننے کی شرح میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے اور ماؤں کی اوسط عمر بھی بڑھ گئی ہے۔ پچھلے بیس سال میں پہلی مرتبہ ماں بننے والی خواتین کی اوسط عمر 26 سال سے بڑھ کر 29 برس ہوگئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||