کم وزن نوزائیدہ بچوں میں ڈپریشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی تحقیق کے مطابق پیدائش کے وقت جن بچوں کا وزن کم ہوتا ہے ان میں آگے چل کر ڈپریشن کا شکار ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ برطانوی جریدے سائیکیٹری میں شائع تحقیق کےمطابق وہ نوزائیدہ بچے جن کا وزن ساڑھے پانچ پاؤنڈ سے کم ہوتا ہے ان میں بالغ ہوکر پریشانی اور ڈپریشن کا شکار ہونے کا خطرہ 50 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ کم وزن والے بچوں میں کئی طرح کی بیماریوں کا خطرہ رہتا ہے جن میں پڑھنے لکھنے اورسجھنے میں دقت بھی شامل ہے اور اب ایسے شواہد ملے ہیں کہ ان کا مزاج بھی مختلف ہوتا ہے۔ تحقیق کار ڈاکٹر نکولا وائلز کا کہنا ہے کہ ہم ان عورتوں میں افرا تفری نہیں پھیلانا چاہتے جن کو اس بات کا خدشہ ہے کہ ان کے یہاں پیداہونے والے بچے کا وزن کم ہو سکتا ہے۔ برسٹل میں ان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم نے 1950 کی دہائی میں کئے گئے مطالعےمیں شرکت کرنے والے 5،572 افراد کی اطلاعات کا استعمال کیا۔ اس ٹیم نےکم وزن کے پیدا ہونے والے بچوں کے 51 برس کی عمر تک پہنچنےپر ان میں ڈپریشن کی شرح کا موازنہ بچپن میں ان کی ذہنی نشو نمااور نفسیاتی روئیے سے کیا۔ ڈاکٹر وائلز کا کہنا ہے ہو سکتا ہےکہ کم شرح پیدایش اور بالغ ہونے پر ڈپریشن کا تعلق رحم میں بچے کی دماغی نشو نما ٹھیک ڈنگ سے نہ ہونےسے ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کی زیادہ تر دماغی نشو نما ماں کے رحم میں ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ عمر کے اس حصے میں یہ پہلو انسان کو اس طرح متاثر کرتا ہو ۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لوگ ان انکشافات سے پریشان نہ ہوں ہو سکتا کہ ڈپریشن کی اور بھی کئی وجوہات ہوں یہ تو صرف ایک اور پہلو ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے۔ پہلے بھی اس طرح کی رپورٹیں آچکی ہیں کہ ایک عمر میں ڈپریشن کا شکار ہونے کا تعلق پیدائش کے وقت کم وزن سے ہے۔ 2004 میں میڈیکل ریسرچ کو نسل کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بھی اسی طرح کے رجحان کا ذکر کیا گیا تھا جس میں 5000 لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ اس ریسرچ میں بھی کہا گیا تھا کہ حاملہ عورتوں میں ایک خاص وقت میں ذہنی تناؤ سے بچے کا ذہن متاثر ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||