بچے! پیدائشی حسن پرست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نوزائیدہ بچے، بڑوں کی ہی طرح، حسن پرست ہوتے ہیں اور دلکش چہروں کی جانب قدرے زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ایکسٹر کے ایک مطالعے سے انکشاف ہوا کہ نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی طور پر ایسے رجحانات ہوتے ہیں جن سے انہیں نئی دنیا کے بارے میں اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ مطالعے کے دوران نوزائیدہ بچوں کو دو مختلف تصاویر ساتھ ساتھ دکھائی گئیں، پہلی تصویر میں دوسرے کے بجائے زیادہ دلکش چہرہ تھا۔ ان بچوں نے دلکش چہرہ دیکھنے میں زیادہ وقت صرف کیا۔ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ڈاکٹر ایلن سلیٹر کا کہنا ہے کہ آپ بچوں کو متعدد چہرے دکھائیں لیکن نوزائیدہ بچے دلکش چہروں پر ہی متوجہ ہوتے ہیں۔ ’اس سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بچوں میں انسانی چہرہ پہچاننے کی پیدائشی صلاحیت ہوتی ہے۔‘ ڈاکٹر سلیٹر کے مطابق نوزائیدہ بچوں میں انسانی چہروں کو پہچاننے کی یہ صلاحیت پیدائشی ہے اور اسی صلاحیت کی وجہ سے وہ اپنی ماں کی شناخت بڑی جلدی سے کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سلیٹر نے اس تحقیق کے دوران یہ بھی دریافت کیا کہ بچے پیدائش کے پندرہ گھنٹوں کے اندر ہی اپنی ماں کا چہرہ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خواتین کے ہجوم میں بھی اپنی ماں کو پہچان سکتے ہیں۔ جب بچوں کو دو چہرے دکھائے گئے جن میں ایک چہرہ قدرے زیادہ دلکش تھا، تو بچوں نے دلکش چہرہ دیکھنے پر اپنا اسی فیصد وقت صرف کیا۔ اس مطالعے میں شامل بچوں کی عمر عام طور پر دو دن تھی، جبکہ بعض کی عمر کچھ گھنٹے ہی تھی۔ اس مطالعے کے دوران یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نوزائیدہ بچوں میں موسیقی کی پرکھ کی صلاحیت ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||