زچہ بچہ کو ’ایئر فریشنر‘ سے نقصان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک تحقیق کے مطابق ایئر فریشنر اور ایروسول سے ماں اور بچے کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حمل اور بچن کے دنوں میں ایروسول کا زیادہ استعمال بچوں میں اسحال اور کان کے درد اور خواتین میں ڈپریشن اور سر کے درد کا باعث بنتا ہے۔ برونیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ گھروں میں ایروسول کا استعمال کم سے کم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر فریشنر کے چھڑکاؤ سے صحت کے لیے نقصان دہ ’وولاٹائیل آرگینک کمپاؤنڈ (وی او سی)‘ خارج ہوتے ہیں۔ گھر کے اندر رنگ روغن، فرنیچر اور صفائی میں استعمال ہونے والے دیگر کیمیکل سے بھی وی او سی خارج ہوتے ہیں۔ ماہرین نے تحقیق میں چودہ ہزار بچوں کو شامل کیا۔ انہوں نے ان بچوں کی پیدائش کے بعد سے ان کی نشو ونما پر نظر رکھی اور دیکھا کہ وہ ماحول سے کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں نے ایک سو ستر بچوں کے گھروں میں وی او سی کے اثرات کا جائزہ لیا اور دس ہزار ماؤں سے انٹرویو کیے۔ انہیں معلوم ہوا کہ جن گھروں میں روزانہ ایئر فریشنر استعمال ہوتا وہاں بچوں میں اسحال کا امکان ان گھروں میں رہنے والے بچوں سے بتیس فیصد زیادہ ہے جہاں یہ صرف ہفتے میں ایک بار چھڑکے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ پالش، ڈیوڈرانٹ اور ہیئر سپرے کا استعمال بچوں میں اسحال اور ماؤں کی صحت کی خرابی کا امکان تیس فیصد بڑھا دیتا ہے۔ تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر ایلیگزانڈا فارو نے کہا کہ لوگوں سمجھتے ہیں کہ ایئر فریشنر اور ایروسول کے استعمال سے گھر صاف ہو جاتا ہے لیکن ’صفائی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صحت کےلیے اچھا بھی ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ مائیں اور بچے زیادہ وقت گھر میں گزارنے کے وجہ سے وی او سی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ بڑی عمر کے لوگ بھی جو زیادہ باہر نہیں جاتے ان اشیا سے متاثر ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||