بانجھ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیلجیئم کی ایک خاتون نے، جو کینسر کے مرض کے علاج کے دوران کی جانے والی کیموتھیریپی کی وجہ سے بانجھ ہوچکیں تھیں، دنیا میں پہلی مرتبہ ایک نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے کامیابی کے ساتھ ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اس بتیس سالہ خاتون کی اووروی کے ٹشو سات سال پہلے اس وقت نکال کر فریز کردیئے گئے تھےجب ان کی کیموتھیریپی شروع کی جارہی تھی اور بعد میں ان ٹشوز کو دوبارہ ان کےجسم میں لگا کر انہوں نے قدرتی طور پر بچے کو جنم دیا ہے۔ تمارہ نامی بچی کا وزن تین عشاریہ بہتر کلوگرام ہے اور وہ جمعرات کی رات کو پیدا ہوئی۔ پیدائش قدرتی طریقے سے ہوئی۔ بلجیم کے ہستپال کلینیک یونیورسیتیغزسینٹ لیوک جس میں تمارا کی پیدائش ہوئی وہاں کی ترجمان کا کہنا ہے کہ زچہ اور بچہ خیریت سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی پیدائش ہے۔ ماہرین کے مطابق تمارا کی پیدائش سے اولاد سے محروم ہزاروں خواتین کو امید ہو ئی ہوگی کہ ان کے ہاں بھی بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||