بچی اپنی نانی کے پیٹ میں پلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک ترپن سالہ عورت نے اپنی بیمار بیٹی کی بچی اپنے پیٹ میں منتقل کروا کر پیدا کی۔ سات پاؤنڈ آٹھ اونس کی بچی کا نام اینی ٹرینیٹی ہیٹرزلی رکھا گیا ہے اور اس کا وزن سات پاؤنڈ آٹھ اونس ہے۔ بچی کا نام ٹرینیٹی اس لیے رکھا گیا کیونکہ اس کی پیدائش میں اس کی نانی کو شامل کرنے کے بعد تین افراد کا عمل دخل ہے۔
ترپن سالہ اینی کی پینتیس سالہ بیٹی ایما کو پھیپھڑوں کی بیماری کی وجہ سے بچی پیدا کرنے میں جان کا خطرہ لاحق ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس صورتحال میں ایما کے لیے ماں بننے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ اس کے اور اس کے خاوند کے ملاپ سے تخلیق پانے والے بچے کو کسی اور عورت کے پیٹ میں بڑا ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کے لیے کسی عورت کی اپنی ماں سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اکثر لڑکیوں کی مائیں زیادہ بڑی عمر کی ہوتی ہیں اور ان کے لیے بچہ پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن ایما کی والدہ کی صحت اچھی تھی۔ ایما نے بتایا کہ انہوں نے کئی سال سوچنے کے بعد اپنی والدہ سے مدد مانگی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں وہ کسی اور پر اعتبار نہیں کر سکتی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||