’انسانی جین بنانے کا جھوٹا دعویٰ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ساتھی سائنسدان کا کلوننگ کے ذریعہ انسانی جین بنانے کا دعوی جھوٹا ہے۔ جنوبی کوریا کے ڈاکٹر ہوانگ وو سک نے اگست میں کلوننگ کے ذریعے انسانی جین بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس دعوے کو سائنس میں ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا تھا۔ ڈاکٹر ہوانگ نےکہا کہ وہ پروفیسر کے عہدے سے مستفعیٰ ہو رہے ہیں لیکن وہ یہ ماننے سے ا نکاری ہیں کہ ان کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی تھا۔ ڈاکٹر ہوانگ البتہ کچھ غلطیوں کا اعتراف کیا ہے۔ ڈاکٹر ہوانگ ووسک نے لوگوں سے معافی مانگی کہ ان کی وجہ سے انہیں صدمہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ ڈاکٹر ہوانگ نے کہا کہ ان کی دعوے کی سائنسی بنیاد مضبوط ہے اور وہ آج بھی سمجھتے ہیں کہ کوریا کے سائنسدان اس شعبے میں تمام دنیا سے آگے ہیں۔ جنوبی کوریا کی قومی یونیورسٹی نے کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر ہوانگ ووسک کے دعوے کی تحقیق کے بعد اس نتیجے تک پہنچی ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایک جھوٹی کہانی گھڑی تھی اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر ہوانگ ووسک اور ان کے رفقاء کا دعوی تھا کہ انہوں عام انسانی خلیے سے جینیاتی مادہ حاصل کرنے کے بعد انہیں بیضوں کو انڈوں میں منتقل کر دیا اوراس طرح وجود میں آنے والے انسانی جنین کو بعد میں کلچر کرکے ’سٹم سیل‘ یا مخصوص قسم کے خلیوں میں بدل دیا تھا۔ سٹم سیل خلیہ کی وہ بنیادی قسم ہے جس سے جسم کا کوئی خیلہ بنایا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں انسانی کلون کی تیاری کا دعوٰی17 January, 2004 | نیٹ سائنس انسانی کلوننگ پر پابندی کا مطالبہ13 February, 2004 | نیٹ سائنس انسانی جنین بنانے کی درخواست28 September, 2004 | نیٹ سائنس ہم سا ہو تو سامنے آئے05 November, 2003 | منظر نامہ کلون شدہ گائے کا گوشت محفوظ ہے12 April, 2005 | نیٹ سائنس ’اپنی طرح کے پہلے بلونگڑے‘23 August, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||