پولیو چار ممالک میں باقی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی داراہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کے بیان کے مطابق دنیا کے صرف چار ممالک میں پولیو کا مرض اب باقی رہ گیا ہے اور ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی پولیو کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کا کہنا ہے کہ اب پوری طرح یہ مرض ختم کرنے کے لیے چار ’اینڈیمک‘ ممالک یعنی افغانستان، بھارت، نائجیریا اور پاکتسان پر توجہ دینی ضروری ہے۔ ان ممالک کے کئی علاقوں میں لوگ پولیو سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی بار بار مہم کیے جانے کے باوجود ٹیکے لگواتے ہی نہیں۔ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر سٹیو کوچی کے مطابق ’پولیو کا خاتمہ اب محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کی کامیابی سیاسی ارادے کی بات ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام بچوں کو اس سے بچاؤ کا ٹیکہ ملے۔‘ اس سال پولیو سے اپاہج ہونے والے بچوں کو لگنے والی وائرس پولیو کے شکار ممالک سے آئی تھی۔ اب پولیو سے محفوظ ان ممالک کی کوشش ہے کہ وہ اپنے آپ کو پولیو والے ممالک کی اس بیماری کے خطرے سے بچائیں۔ اسی لیے سعودی عرب کی وزارت صحت نے بھی اس سال جج پر جانے والے لوگوں کے لیے پولیو کی حفاظتی ٹیکوں کی سخت شرط رکھی ہے۔ کمیٹی نے ان چار ممالک کو کہا ہے کہ وہ اس بیماری کے خاتمے کے لیے مثبت اقدامات کریں اور وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مناسب ڈیڈ لائن مقرر کریں۔ | اسی بارے میں انڈیا: پولیومیں اضافہ 22 September, 2006 | انڈیا مشکل اور خطرناک پولیومہم07 May, 2006 | پاکستان پولیو فری پاکستان کے لیے کوشش03 September, 2005 | پاکستان پولیو کی دوا: سنگین غلط فہمیاں 17 August, 2005 | انڈیا پولیو : عالمی امداد کی بندش کا خدشہ14 March, 2005 | پاکستان پولیو: بس آخری دھکا15 January, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||