مشکل اور خطرناک پولیومہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے دشوارگزار سرحدی علاقے میں رہائش پذیر سولہ ملین بچوں کو اس ہفتے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں جائیں گے۔ عالمی ادارۂ صحت کی ترجمان فدیلاچائب نے بتایا ہے کہ یہ مہم ایک ہفتے تک جاری رہے گی اور اس میں ایک کروڑ چالیس لاکھ پاکستانی اور بیس لاکھ افغانی بچوں کو دوائی دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران ہزاروں کارکن اس علاقے میں موجود آبادیوں میں جا کر یہ کام سر انجام دیں گے اور یہ عالمی ادارۂ صحت کی تاریخ کے چند مشکل آپریشنوں میں سے ایک ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے اولیور روزنبائر کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیمیں جس علاقے میں کام کرنے جا رہی ہیں وہ صرف جغرافیائی طور پر ہی مشکل نہیں وہاں امن وامان کے حالات بھی اچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ان علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلانا انہتائی مشکل اور خطرناک ہے‘۔ ادارے کی ترجمان فدیلاچائب کا کہنا ہے کہ’ اس بیماری کا وائرس ابھی علاقے میں موجود ہے۔ اس لیئے ضروری ہے کہ ان بچوں کو دوا دی جائے جو سرحد کے دونوں طرف رہتے ہیں‘۔ ڈبلو ایچ او کے مطابق سنہ 2006 میں اب تک افغانستان سے پولیو کے پانچ جبکہ پاکستان سے دو مریض سامنے آ چکے ہیں۔ تاہم عالمی ادارے کو امید ہے کہ اس مہم کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان سے پولیو کے مرض کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور یہ مرض صرف انڈیا اور نائجیریا میں باقی رہ جائے گا۔ ڈبلیو ایچ او نے 1988 میں دنیا سے پولیو کے وائرس کے خاتمے کے مہم شروع کی تھی تاہم اب تک اس وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا تھا۔ اس مہم کو دو سال قبل اس وقت بھی ایک دھچکا لگا تھا جب شمالی نائجیریا میں یہ مہم روک دی گئی تھی اور نتیجتاً وہاں وائرس دوبارہ پھیلا تھا۔ | اسی بارے میں آٹھ لاکھ بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکے12 November, 2005 | پاکستان پولیو فری پاکستان کے لیے کوشش03 September, 2005 | پاکستان پولیو : عالمی امداد کی بندش کا خدشہ14 March, 2005 | پاکستان کشمیر میں پولیو کا خاتمہ :حکام15 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||