پولیو : عالمی امداد کی بندش کا خدشہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر 2005 میں اس کی پو لیو کے خلاف مہم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ادارہ اس ضمن میں دی جانے والی امداد معطل کردےگاـ سندھ کے سیکریٹری صحت ڈاکٹر نوشاد شیخ کے مطابق عالمی ادارہ نےامداد کی فراہمی معطل کرنےکا عندیہ حال ہی میں جینیوا میں منعقدہ اجلاس میں دیا ہے۔ پاکستان کےصوبہ سندھ میں ادارہ کے نمائندہ ڈاکٹرغلام نبی قاضی کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی وارننگ تو نہیں دی گئی ہے تا ہم پاکستان میں اب تک پولیو کی صورتحال کے پیش نظر امداد میں اضافے کو بہتر کار کردگی سے مشروط کیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے 6 ممالک میں بچے پولیو جیسی معذور کر دینے والی بیماری کاشکار ہوتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ ان ممالک میں بھارت، افغانستان نائجیریا، سوڈان اور مصر شامل ہیں۔ پاکستان میں1995 سےاب تک پولیو کےخلاف ٹیکوں کی مہم کے 50 سے زائد دور کیے جا چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف اور روٹری انٹرنیشنل کے اشتراک سے پاکستان کو پولیو کے خاتمہ کے لیے تقریبا 50 ملین ڈالرز کی امداد دی جاتی ہے۔ پولیو کے خلاف 1995 میں شروع کی جانے والی مہم کا مقصد پاکستان کو 2000 تک معذور کر دینے والی اس بیماری سے پاک کردینا تھا مگر یہ ہد ف ٹلتے ٹلتے اب جنوری 2006 تک جا پہنچا ہے اور اس کے باوجود پاکستان ابھی تک زیرو پولیو کی سطح تک نہیں پہنچ سکا ہے جس کو ایک سال برقرار رکھنے کے بعد تین سال تک اس ملک کو بغیر کسی پولیو کیس کے گزارنا ہوتے ہیں تا کہ عالمی ادارۂ صحت اسے پولیو سے پاک ملک قرار دے سکے۔
پاکستان کی صورتحال یہ ہےکہ صرف جنوری 2005 میں ہی پولیو کے دو کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی پولیو کے خلاف ایک عشرہ پر محیط جدوجہد کے جائزہ سےپتہ چلتا ہے کہ اس بیماری کے خاتمہ کے حوالے سے صورتحال پانی سے بھرے آدھے گلاس کی سی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں گزشتہ چودہ ماہ سے پولیو کا ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا ہے اس کے برعکس صوبہ سندھ میں صرف 2004 میں پولیو کے 27 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ پورے پاکستان سے پولیو کے 51 کیس رپورٹ ہوئے۔ پولیو ایکسپرٹ ریویو کمیٹی بلوچستان کےچیئرمین ڈاکٹرغفارناگی کا کہناہے کہ بلوچستان میں پولیو کے خاتمہ کی بڑی وجہ آبادی کا قدرے پھیلا ہوا ہونا ہے۔ ان کےخیال میں پولیو جیسی بیماری کا وائرس گنجان آباد علاقوں میں زیادہ تیزی سے پھیلنے اور متاثر کرنےکی صلاحیت رکھتاہے۔ دوسری جانب سندھ میں ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کی رکن ڈاکٹر درِّ ثمین اکرم کےنزدیک سندھ میں سب سے زیادہ پولیو کےکیس رپورٹ ہونےکی بڑی وجہ یہاں کےگنجان آباد شہراورمتحرک آبادی ہے۔ ان کےخیال میں سندھ بھر میں عموماً اور کراچی میں خصوصاً دیگر علاقوں سے بچوّں کی آمدورفت بھی پولیو کیس میں اضافہ کا سبب ہوسکتی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ڈاکٹر شیر شاہ سیّد کہتے ہیں کہ پولیو کے خاتمہ میں ناکامی پر ملک میں صحتِ عامہ کے کرتا دھرتاؤں کا محاسبہ ہونا چاہیے کیونکہ اگر اتنی خطیر رقم خرچ کر کے بھی پولیو پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ مقصد سے بےایمانی روا رکھی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||