BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں پولیو کا خاتمہ :حکام

پولیو سے بچاؤ کی مہم
پولیو کے خلاف مہم
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کے اس علاقے میں پولیو کے مرض کا مکمل طور پر خاتمہ ہوچکا ہے۔

اقوام متحدہ کا ادارۂ صحت بھی تصدیق کرتا ہےکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا علاقہ پولیو کے مرض سے پاک ہے لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اب بھی نگرانی کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے سربراہ ڈاکڑ سردار محمود احمد نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کے تعاون سے پولیو کے خلاف بھر پور مہم کے نتیجے میں اس علاقے کو پولیو جیسے مرض سے نجات ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے اس علاقے میں گزشتہ چار سالوں کے دوران پولیو کا کوئی بھی نیا کیس سامنے نہیں آیا اور یہ کہ اس علاقے میں پولیو کے شکار ہونے کی آخری اطلاع دسمبر سن 2000 میں ملی تھی ۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کو بھی کشمیر کے اس علاقے کے محکمۂ صحت کے حکام کے موقف سے اتفاق ہے کہ اس علاقے میں گزشتہ چار سالوں کے دوران پولیو کا کوئی بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا۔ لیکن عالمی ادارے کی طرف سے اس خطے کو باقاعدہ طور پر پولیو سے پاک خطہ قرار نہیں دیا گیا۔

عالمی ادارۂ صحت کسی بھی ایسے ملک کو پولیو سے پاک خطے کی سند سے نوازتا ہے جہاں پولیو کے آخری کیس کے بعد تین سال تک کوئی نیا مریض سامنے نہ آئے۔

لیکن پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے ایک افسر ڈاکڑ خوشحال خان زمان نے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے کشمیر کے اس علاقے کو پولیو سے پاک خطے کی سند جاری نہ کرنے وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ پاکستان کے انتظام میں ہے اور اس علاقے کی علحیدہ کوئی حثیت نہیں ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کسی مخصوص علاقے ، صوبے یا ریاست کو پولیو سے پاک علاقے کی سند سے نہیں نوازتا بلکہ ممالک کو یہ سند دی جاتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان میں پولیو کے چوالیس نئے مریض سامنے آئے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سال کے دوران پاکستان میں پولیو کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔

اگر پاکستان میں رواں سال میں پولیو کا خاتمہ ہوتا بھی ہے تب بھی پاکستان کو پولیو سے پاک علاقے کا سارٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے مزید تین سال انتظار کرنا پڑے گا بشرطیکہ اس دوران پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہ آئے۔

مسڑ خوشحال خان زمان نے، جو کشمیر کے اس علاقے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے آپریشنل افسر بھی ہیں، کہا کہ یہ علاقہ پولیو سے پاک ہے لیکن اس خطے میں اب بھی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے پاکستان میں پولیو کے وائرس کی موجودگی کی وجہ سے اس مرض کا کشمیر کے اس علاقے میں پہچنے کا بدستور خطرہ ہے کیونکہ کشمیر اور پاکستان کے درمیان لوگوں کی آمدورفت عام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے اس علاقے میں دسمبر سن 2000 میں سامنے والا پولیو کے آخری کیس کا وائرس بھی پاکستان سے آیا تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ سن 1994 میں اس خطے میں پولیو کے انسداد کے لیے شروع کی جانے والی مہم اب بھی جاری ہے ۔

یہ مہم اس وقت تک جاری رکھنا پڑے گی جب تک عالمی ادارۂ صحت پاکستان کو پولیو سے پاک خطے کی سند جاری نہیں کرتا۔

رواں ہفتے میں تین روزہ پولیو مہم کے دوران پانچ لاکھ سے زائد پانچ سال تک کے عمر بچوں کو پولیو کی دوائی پلائی گئی۔

اس وقت پاکستان سمیت ایشیاء اور افریقہ کے چھ مما لک میں پولیو کا وائرس موجود ہے اور عالمی ادارہ صحت نے سن 2005 تک پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد