انڈیا: پولیومیں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں تمام کوششوں کے باوجود پولیو کی بیماری پر نہ صرف قابو نہیں پایا جا سکا ہے بلکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پولیو کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ہندوستان میں پولیو کے 66 کیس درج ہوئے تھے لیکن اس برس یہ تعداد بڑھ کر 297 ہوگئی ہے۔ پولیو سے متاثر ہونے والے بیشتر بچوں کا تعلق ریاست اترپردیش کی مسلم برادری سے ہے ۔ کل 297 میں 269 کیس اتر پردیش میں دیکھنے میں آئے ہیں۔ شاید انہی اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے حکومت پولیو پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عمل پر غور کررہی ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر صحت امبومنی راموداس نے متاثرہ ریاستوں کے وزراء اعلی کی میٹنگ بلائی تھی اور پولیو پر قابو پانے کے لیے لوگوں میں بیداری مہم چلانے کو کہا ہے۔ وزیر صحت کا کہنا تھا: ’ہمیں یہ خبریں مل رہی ہیں کہ اتر پردیش کے مسلمانوں میں یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ پولیو کے ٹیکوں سے بچے نامرد ہوجاتے ہیں۔ ان افواہوں کو ختم کرنے کے لیے اترپردیش حکومت نے ایک بڑا پروگرام شروع کیا ہے۔‘ حکومت نے اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے مسلم علماء کی مدد لی ہے۔ اس کے باوجود پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں میں تقریبا 70 فیصد مسلمان ہیں۔ بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ چند مسلم حلقوں نے پولیو خوراک سے متعلق غلط فہمی پھیلا رکھی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق کا خیال ہے کہ مسلم بچوں میں پولیوں کی بیماری کی خبر درست ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’بعض علماء پولیو کی دواؤں کے خلاف بیان دیتے ہیں جو غلط ہے۔ اسلام میں بچوں کی صحت پر خاص توجہ دی گئی ہے، اس لیے پولیو کی دوائی کے خلاف افواہوں پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔‘ اترپردیش کے امروہہ ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹرٹ سی ایس سنگھ کا کہنا تھا کہ مرادآباد، امروہہ اور بدایوں کے پچھڑے مسلمانوں میں پولیو کی شکایت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات صحیح ہے کہ پولیوں کے بیشتر واقعات مسلم برادری میں پیش آئے ہیں۔ لیکن اس کی اصل وجہ غریبی اور گندگی ہے۔مسلم علماء اور مدارس پولیو پر قابو پانے کے لیے مسلسل کام کررہے ہیں۔‘ چند برس پہلے عالمی ادرۂ صحت نے پوری دنیا سے پولیو کو ختم کرنے کے لیے زبردست مہم شروع کی تھی لیکن ہندوستان کا شمار اب بھی ان چند ممالک میں ہورہا ہے جہاں پولیو پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ | اسی بارے میں بہار: کاشتکار پنشن سکیم کا اجرا18 September, 2006 | انڈیا چکنگنیا بیماری سے نو لاکھ افراد متاثر 30 August, 2006 | انڈیا مچھروں کی بیماری، نو لاکھ متاثر 30 August, 2006 | انڈیا ’سافٹ ڈرنکس‘ صحت کے لیئے مضر02 August, 2006 | انڈیا بچے کی صحت پر تشویش07 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||