مچھروں کی بیماری، نو لاکھ متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی جنوبی ریاستوں میں مچھروں سے پھیلنے والی بیماری ’چکنگنیا‘ سے تقریبا نو لاکھ افراد متاثر ہوگئے ہیں۔ یہ بیماری تقریبًا 30 برس بعد ہندوستان میں پھیلی ہے۔ صحت کے شعبہ میں تحقیق کرنے والے سرکاری ادارے آئی سی ایم آر یعنی انڈین کاؤنسل فار میڈیکل ریسرچ کے سربراہ این کے گنگولی کے مطابق جنوبی ہندوستان کے ایک سو تیس اضلاع اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں آندھرا پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹرسب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں بیماری پیھلنے کی تصدیق کرتے ہوئے مکحمہ صحت کے مرکزی وزیر امبو منی رام ڈاس نے کہا’ہم اس بیماری سے متعلق لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بیماری کی اصل وجہ ایک وائرس ہے جو مچھر کے کاٹنے سے انسان کے جسم میں پہنچ چاتاہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ملیریا کی بیماری میں تو مچھر رات میں کاٹتے ہیں اور اس سے بچنے کے لیئے لوگ مچھر دانی کا استعمال کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ بیماری دن میں کاٹنے والے مچھروں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت ادارے کے مطابق چکنگنیا ایک جان لیوا بیماری نہیں ہے۔ بیماری پھیلانے والے مچھر کے کاٹنے کے بعد چار سے سات دنوں کے درمیان مریض میں اس بیماری کی علامتیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ مریض کو تیز بخار، سردرد کے علاوہ جوڑوں میں بے حد درد ہوجاتا ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ بیماری پر قابو پانے کے لیئے صحت کے وزير امبو منی رام ڈاس عوام میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسٹر رام ڈاس کا کہنا تھا ’اس مہم میں لوگوں کو یہ ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ وہ پانی کو جمع نہ ہونے دیں اور ساتھ ہی ہر ہفتے پانی رکنے والے مقامات کی صفائی کریں اور ریاستی حکومتوں کی مدد سے عوام میں مختلف دوائیں تقسیم کی جا رہی ہیں جسے گھروں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں چھڑکا جائے گا‘۔ اس بیماری میں مریض کی ہڈیوں کی کارکردگی میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کا نام سواہلی زبان سے لیا گیا ہے جس کا مطلب رکی ہوئی چال ہے ۔ | اسی بارے میں ٹی بی: آج بھی ایک مہلک بیماری 24 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||