’سافٹ ڈرنکس‘ صحت کے لیئے مضر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں سائنس اور ماحولیات پر کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے نے کہا ہے کہ ملک میں فروخت کی جانے والی بیشتر سافٹ ڈرنکس میں ایسے زہریلے مادے پائے جاتے ہیں جو مضرِصحت ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بعض معیار طے کیئےگئے تھے تاہم وزارت صحت نے انہیں نافذ نہیں کیا ہے۔ ’سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ‘ نے تین برس قبل بھی اسی طرح کی رپورٹ جاری کی تھی جس میں سافٹ ڈرنکس میں زہریلے مادوں کی موجودگی کی بات کی گئی تھی۔ اس بار اس ادارے نے ملک کی پندرہ ریاستوں کے جائزے کے بعد کہا ہے کہ سبھی کولڈ ڈرنکس کے نمونوں میں ’تین سے چھ فیصد تک پیسٹی سائڈ پایا گیا ہے‘۔ اس سلسلے میں پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی نے ’بیورو آف انڈین اسٹنڈرڈ‘ سے سافٹ ڈرنکس کمپنیوں کے لئیے بعض معیار طے کرنے کو کہا تھا اور بیورو نے معیار طے بھی کیئے تھے۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ کمپنیوں نے اس معیار کی مخالفت کی تھی اور وزارت صحت نے بھی انہیں نافذ نہیں کیا ہے۔ ’سی ایس ای‘ کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنک کے مضر اثرات کے متعلق تین برس پہلے آگاہ کیا گیا تھا لیکن اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور آج بھی’ہماری صحت خاص طور پر بچوں کی صحت کے متعلق وزارت صحت سنجیدہ نہیں ہے‘۔ وزیر صحت سبودھ کانت سہائے نے کہا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیئے وہ کچھ نہیں کہیں گے لیکن ’اگر حکومت کو باقاعدہ شکایت ملتی ہے تو وہ اس کی تحقیق کے لیئے تیار ہے اور اگر ایسا کچھ پایا گیا تو حکومت قدم اٹھائےگی‘۔ ’سی ایس ای‘ نے ایک درجن سے زائد ریاستوں میں کوکا کولا اور پیپسی کمپنیوں کی گیارہ سافٹ ڈرنکس کے پچاس سے زیادہ نمونوں کی جانچ پرتال کی گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سبھی سافٹ ڈرنکس میں چوبیس گنا پیسٹی سائڈ پایا گیا ہے۔ ادارے کی سربراہ سنیتا نارائنن کا کہنا ہے کہ’یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ پیسٹی سائڈ کم درجے کا زہر ہے جو آہستہ آہستہ جسم پر اثر انداز ہوتا ہے‘۔ سی ایس ای کے ان انکشفات کے بعد ’ سافٹ ڈرنک مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن‘نے ایک بیان میں ادارے کے تمام دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں عالمی اصول و ضوابط ہیں جن کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔’گزشتہ تین برسوں سے سبھی کمپنیاں ہندوستان کی وزارت صحت اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر عالمی پیمانے کا معیار اپنانے کی کوشش کی ہے۔ بھارت کے اصول بھی عالمی پیمانے کے ہیں اور سبھی کمپنیاں اسی کے مطابق کام کرتی ہیں‘۔ دو ہزار تین میں بھی سی ایس ای کی رپورٹ پر سافٹ ڈرنک کمنیوں نے کئی اعتراضات کیئے تھے اور کہا تھا کہ جانچ کا طریقہ درست نہیں تھا۔ | اسی بارے میں بوتل میں کونڈوم، پیپسی کو جرمانہ27 April, 2006 | انڈیا ’کوک، پیپسی ایک کیڑے مار دوا‘02 November, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||