بوتل میں کونڈوم، پیپسی کو جرمانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی مشروب ساز ادارے پیپسی کی ایک سِیل بند بوتل میں کونڈوم ملنے کے بعد ایک انڈین عدالت نے ادارے کو بیس ہزار روپے ہرجانہ مّدعی کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ پیپسی کمپنی کو صارفین کے قانونی فنڈ کو بھی ایک لاکھ روپے کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ پیپسی کمپنی نے پیکنگ میں لاپروائی کے الزامات کی تردید کی ہے اور کمپنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ بظاہر کوئی مقامی کمپنی پیپسی کا برانڈ استعمال کر رہی ہے اور اپنی مصنوعات پیپسی کے نام پر فروخت کر رہی ہے۔ کشمیری گیٹ کے سودیش شرما نے دلی کی صارف عدالت ميں پیپسی پر بوتل میں کونڈوم پائے جانے کے بعد مقدمہ کیا تھا۔
مسٹر شرما کے مطابق انہوں نے سن دو ہزار تین میں کشمیری گیٹ کی ایک دوکان سے پیپسی کی دو بوتلیں خریدیں تھیں۔ ایک بوتل پینے کے بعد ان کے سر میں تیز درد ہوا اور نیند نہ آنے کی بھی شکایت تھی جس کی وجہ سے ان کو اپنا علاج بھی کرانا پڑا۔ جب انہوں نے پیپسی کی دوسری سیل بند بوتل کو دیکھا تو بوتل میں نہ صرف گندگی تھی بلکہ اس میں ایک کونڈوم بھی تیر رہا تھا۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ پیپسی اپنے خریداروں عدالت نے پیپسی کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ وہ اس معاملہ کے لیئے ذمہ دار نہیں ہے کیونکہ کشمیری گیٹ میں اس کا کوئی ڈیلر نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا معاملہ کم سامنے آتا ہے لیکن یہ بہت سنگین معاملہ ہے کیونکہ اس کا تعلق عام آدمی کی صحت سے ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ’ یہ معاملہ آنکھیں کھول دینے والا ہے اور جو کمپنیاں سافٹ ڈرنک بنانے کا کام کر رہی ہیں انہیں لوگوں کی صحت کا خیال کرتے ہوئے اپنی اشیاء کا ایک معیار قائم رکھنا چاہیے‘۔ ہندستان سافٹ ڈرنک کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور یہاں کوکا کولا اور پیپسی جیسی کمپنیاں ہر سال اربوں روپے کا کاروبار کرتی ہیں۔ بھارت میں سافٹ ڈرنک تیار کرنے والی یہ دو بڑی کمپنیاں ملک میں کاربونیٹڈ مشروبات کے بازار میں ان دونوں کمپنیوں کا نوےّ فی صد سے بھی زیادہ حصہّ ہے اور ہر سال یہ دونوں پچاس کروڑ سے زیادہ بوتلیں فروخت کرتی ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||