بچے کی صحت پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں پولیس چار سالہ میراتھن رنر بوڈھیا سنگھ کو میڈیکل چیک اپ کی غرض سے زبردستی ہسپتال لے کرگئی ہے۔ چار سالہ بوڈھیا سنگھ نے کم عمری میں لمبی دوڑ کی وجہ سے شہرت حاصل کر لی ہے ۔ ریاستی حکام کو اس بچے کی صحت کے بارے میں خدشات ہیں جس کے لیے اس کا میڈیکل چیک اپ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی حکام اور بوڈھیا سنگھ کے کوچ برانچی داس کے درمیان قانونی جنگ جاری ہے۔بوڈھیا سنگھ کے کوچ کا کہنا ہے کہ وہ اتنے چھوٹے بچوں کو لمبی دوڑ کی تربیت دے کر کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے جبکہ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ اتنے لمبے فاصلے تک دوڑنے سے بچے کے پھیپھڑے اور دل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بوڈھیا سنگھ نے حال میں پوری شہر سے بھوبھانیشور تک کا ساٹھ کلومیٹر کا فاصلہ مسلسل دوڑ کر طے کیا ہے۔ انڈیا کی سابق کھلاڑی پی ٹی اوشا نے بھی حال میں ریاست کے ایک دورے کے دوران یہ کہا تھا کہ اتنے لمبے فاصلے تک باقاعدگی سے دورتے رہنے سے بچے کی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انڈیا کی سب سے غریب ریاست اڑیسہ میں بوڈھیا کی ماں نے اسے آٹھ سو روپے کے عوض بیچ دیا تھا لیکن برانچی داس نے ، جو جوڈو کے کوچ ہیں، بوڈھیا کا ٹیلنٹ دیکھنے کے بعد اسے خریدنے والے کو پیسے دے کر اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ بھوبھانیشور پولیس نے برانچی داس کے گھر پر پہنچ کر بوڈھیا سنگھ کو زبردستی ہسپتال لے گئی جہاں پانچ ڈاکٹر ان کا طبی معائنہ کرنے کے لیے تیار تھے۔ ان ڈاکٹروں میں بھارتی سپورٹس اتھارٹی کے میڈیسن سپیشلسٹ بھی موجود تھے۔ بوڈھیا سنگھ کی میڈیکل رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہے۔ پولیس ٹیم کے سربراہ دورلبھا سنگھ نے بتایا کہ پولیس بچوں کی ضلعی فلاح کیمٹی کے کہنے پر بوڈھیا سنگھ کو ہسپتال لے کر گئی۔انہوں نے تردید کی اس کم سن بچے کو ہسپتال لے جانے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ | اسی بارے میں ’نچلی ذات کی خواتین پر ظلم‘24 September, 2005 | انڈیا دِلّی میں تیرھویں ہاف میراتھن ریس03 October, 2004 | انڈیا پاکستانی بھارتی ٹینس مقابلوں کافاتح10 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||