زیادہ ڈبل روٹی: کینسر کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اطالوی تحقیق کے مطابق کثرت سے ڈبل روٹی کھانے والے لوگوں کو گردوں کے سرطان کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ دو ہزار تین سو لوگوں پر تحقیق کے بعد اس بات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چاول اور پاستا کھانے سے بھی اس سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ سبزیاں اور گوشت کھانے سے اس رسک میں کمی ہو جاتی ہے۔ میلان میں فرماکولاجیکل ریسرچ کے ادارے کے تحقیق کاروں نے ایسے 767 افراد جو کہ گردوں کے کینسر کا شکار تھے کا ایسے لوگوں سے موازنہ کیا ہے جنہیں یہ بیماری نہیں تھی۔ انہوں نے دو سال تک ان لوگوں کی ذاتی اور خاندانی میڈیکل ہسٹری، رہن سہن کے طریقے اور خوراک کا مطالعہ کیا۔ سائنسدانوں کی کوشش تھی کہ وہ یہ جان سکیں کہ ایسی کون سی غذائیں ہیں جو رینل سیل کارسینوما کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ ریسرچ کینسر کے بین الااقوامی جریدے ’انٹرنیشنل جرنل آف کینسر‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جو مریض ڈبل روٹی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں انہیں گردوں کے کینسر کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء جن میں کافی، چائے، انڈے، گوشت، مچھلی، پنیر، آلو، اور پھل شامل ہیں گردوں کو متاثر نہیں کرتے۔ اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈبل روٹی میں گلائیکامی انڈکس کی زیادہ مقدار کینسر کے رسک میں اضافہ کرتی ہے۔ یو کے کینسر ریسرچ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس طرح کا دعویٰ کیا گیا ہے اور انہوں نے لوگوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس سے پریشان نہ ہوں۔ اس ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے تمباکو نوشی اور موٹاپا دو ایسی وجوہات ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان سے بچ کر کینسر سے بچا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں ہر سال چھ ہزار چھ سو سے زائد افراد میں گردوں کے سرطان کی تشخیص ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں پھل، سبزیاں اور سرطان سے بچاؤ 26 July, 2004 | نیٹ سائنس بند گوبھی پھیپڑوں کے لیے مفید29 October, 2005 | نیٹ سائنس انار مثانے کے کینسر میں مفید: تحقیق01 October, 2005 | نیٹ سائنس سرطان سے چھٹکارا جین تھراپی سے01 September, 2006 | نیٹ سائنس نارنگی جگر کے کینسر میں مؤثر11 September, 2006 | نیٹ سائنس شفٹوں میں کام سے کینسر کے خطرہ18 September, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||