BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نارنگی جگر کے کینسر میں مؤثر
نارنگی کھانے سے شریانوں کی سختی اور انسولین کی مزاحمت کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں
ایک جاپانی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھوٹے سائز کی نارنگی
(Mandarins) کھانے سے انسانی جسم میں جگر کے کینسر اور دوسری بیماریوں کی افزائش کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

دوران تحقیق سائنسدانوں کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ نارنگی کو اس کا ذرد رنگ دینے والے وٹامن اے مرکبات کینسر روکنے کا اہم عنصر تھے۔ ان مرکبات کو سائنسی زبان میں کاروٹینوائڈز کہا جاتا ہے۔ نارنگی کھانے سے جگر کے کینسر کے علاوہ شریانوں کی سختی اور انسولین کی مزاحمت کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

چھوٹے سائز کی اس نارنگی کا جوس پینے سے ہیپاٹائٹس کے مریض بھی کسی حد تک خطرے کی لکیر سے باہر آ جاتے ہیں جن کے جگر کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ عام شخص کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

برطانیہ میں ہر سال جگر کے کینسر کے کوئی اٹھائیس سو مریض سامنے آتےہیں۔

اس سلسلے میں کی جانے والی پہلی تحقیق میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فروٹ ٹری سائنس سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ایک ہزار تہتر افراد کو سروے میں شامل کیا۔ سروے میں شامل ان افراد کا تعلق جاپان کے مختلف شہروں سے تھا۔

ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں ہیپاٹائٹس کے تیس مریضوں کو سال بھر روزانہ نارنگی کا جوس دیا گیا۔ سال بعد ان کے خون کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ مکمل طور پر ختم ہو گیا جبکہ ان کے برعکس جوس نہ پینے والے 45 مریض کینسر کے خطرے سے دوچار رہے۔

جاپانی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور وہ اس نکتے پر مزید پانچ سال اور تحقیق کا ارادہ رکھتے ہیں۔

 ایک دن میں کھائی جانے والی انسانی غذا کا پانچواں حصہ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل ہونا چاہیے تاکہ دل کی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن

برطانیہ کی ایک چیرٹی میں کام کرنے والے ایڈ یونگ نے اس تحقیق کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید کام کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ محض 75 مریضوں پر مشتمل اس تحقیق سے کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا جب تک کہ اس کا دائرہ وسیع نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کسی پھل کے کھانے سے کوئی خاص فوائد حاصل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن میں کام کرنے والی کیتھی روز کا کہنا تھا کہ تحقیق سے حاصل نتائج ان کے ادارے کی ان سفارشات کی حمایت کرتے ہیں کہ جس کے مطابق ایک دن میں کھائی جانے والی انسانی غذا کا پانچواں حصہ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل ہونا چاہیے تاکہ اس سے دل کی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف رنگ کی سبزیوں اور پھلوں میں مختلف وٹامنز اور منرلز ہوتے ہیں اور غذا میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں سبزیاں اور پھل شامل کیے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
کینسر کی نئی وجہ کا انکشاف
09 June, 2005 | نیٹ سائنس
وٹامن ڈی سے کینسر میں کمی
28 December, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد