بائیں ہاتھ والیوں میں چھاتی کا کینسر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محققین کا کہنا ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خواتین میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ہالینڈ کی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نےانکشاف کیا کہ دائیں ہاتھ سے کام کرنے والی بچیوں کی بہ نسبت بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی بچیوں میں قبل محقیقین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خواتین کی کوکھ میں فوطوں کو جنسی ہارمنز کی کثرت درپیش ہوتی ہے۔ یہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اوٹریج یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کےمحقیقین نے انیس سو بتیس سے انیس سو اکتالیس کے درمیان پیدا ہونے والی بارہ ہزارخواتین کو اس تحقیق میں شامل کیا۔ اس سے قبل ایک دوسری تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پیدائش سے قبل جنسی ہارمونز کا بہت زیادہ اخراج بائیں ہاتھ کا سبب بنتا ہے۔ چیرٹی بریک تھرو بریسٹ کینسر کی ایماٹیگ گارٹ کا کہنا ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خواتین کو اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ تحقیقی نتائج پریشان کن ہیں مگر اس میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والیوں کے چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کے سلسلے میں درکار کافی ثبوت بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین متوازن غذا، الکحل کے کم استعمال اور ورزش سے کینسر کے خطرے کو کم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو چھاتی کے کینسر کے حوالے سے آگاہی رکھنی چاہیے اور اگر وہ اپنے جسم میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی محسوس کریں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ کینسر ریسرچ برطانیہ کی لیسی والکر کا کہنا ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خواتین کے کینسر میں مبتلا ہونے کےحوالے سے ایک جامع تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے حوالے سے ایک مضبوط محرک عمر ہے۔ اسی فیصد چھاتی کا کینسر پچاس سال کی عمر کی خواتین کو ہوا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||