خواتین: پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برٹش لنگز فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ خواتین کی اکثریت پھپھڑوں کی بیماریوں اور ان کےمضمرات کے بارے میں زیادہ باخبر نہیں۔ ادارے نےاس بیماری کے حوالے سے ایک سروے کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ خواتین خصوصا تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کی ایک بڑی اکثریت اس بیماری اور اس کے مضمرات کے بارے میں نہیں جانتی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دل اور سینے کے سرطان کی طرح اس بیماری سےہلاک ہونے والی خواتین کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ ادارے کےمطابق پھیپھڑوں پراثر انداز ہونے والی اور نظام تنفس میں رکاوٹ ڈالنے والی اس بیماری جسے’کراونک اوسبٹریکٹو پلمونری ڈیزیز‘ کا نام دیا گیا ہے ملک میں اس سےمتاثر خواتین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی تو یہ خواتین کی اموات کے حوالے سے چوتھی بڑی مہلک بیماری کی شکل اختیار کر لےگی۔ تمباکو نوشی کرنے والی خواتین میں اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ عام خواتین کی نسبت تیرہ فیصد بڑھ جاتا ہے۔ ملک میں ہر سال تقریبا بارہ ہزار خواتین اس بیماری سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے سروے کے مطابق خواتین نے سینے کے سرطان کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والوں میں جنس کی تخصیص نہیں مگر خواتین اس کا باآسانی شکار ہو جاتی ہیں۔ برطانیہ میں دوسرے یورپی ممالک کی نسبت تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس میں اکثریت نوعمر خواتین کی ہے۔ وینڈی ڈابر محض اڑتیس سال کی عمر میں اس بیماری کا شکار ہوگئی ہیں۔
وینڈی اب ایک صحت مند زندگی گزارنے کی خواہش مند ہیں جس کے آثار مشکل نظر آتے ہیں۔ برٹش لنگز فاؤنڈیشن خواتین میں اس بیماری کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کے لیے ایک مہم بھی چلا رہی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے والےاس مہم کے دوران اپنے بارے میں لوگوں کو بتائیں گے۔ ادارے کی چیف اگزیکٹوڈیمی ہیلینا کا کہنا ہے کہ ملک میں ہزاروں ناگہانی اموات سے بچاؤ کے لیے’ کراونک اوسبٹریکٹو پلمونری ڈیزیز یا سی او پی ڈی‘ کے بارے میں خواتین کا آگاہ ہونا بہت ضروری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||