پراسرار بیماری، مینڈک پھٹ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے شمالی علاقے میں مینڈک ایک پر اسرار بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ وہ دیکھتے ہی کئی فٹ تک سوجنے کے بعد پھٹ کر مر جاتے ہیں۔ سائنسدان مینڈیکوں کو اس طرح پھٹتے دیکھ حیرت زدہ ہیں ۔اس بیماری سے ہزاروں مینڈک مر چکے ہیں۔ اس بیماری کا شکار مینڈک کا پچھلا حصہ تین فٹ سے زیادہ سوجنے کے بعد پھٹ جاتا ہے۔ ماحولیات کے ماہر سمولنک نے فرانیسی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ یہ بیماری اتنی جلدی پھلتی ہے کہ آپ مینڈک کو رینگتے ہوئے دیکھتے ہیں اور وہ پھر وہ سوجنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور دیکھتے دیکھتے ہی پھٹ جاتا ہے۔ جانوروں کے ڈاکٹر اوٹو ہورسٹ نے خبر رساں ادارے کوبتایا کہ اس نے زندگی ایسی بیماری نہیں دیکھتی جس میں دیکھتے دیکھتے کوئی جانور پھٹ جائے۔ جس تالاب میں ہزاروں مینڈک اس پر اسرار بیماری سے پھٹ چکے ہیں اس کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور اس بیماری کے محرکات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||