سرطان سے چھٹکارا جین تھراپی سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو افراد کو ایک ایسی جین تھراپی کے ذریعے جِلد کے مہلک قسم کے سرطان سے چھٹکارا دلا دیا گیا جس میں انہی کے جسم سے مدافعتی نظام (immune system) کے خلیوں میں تبدیلی کر کے انہیں استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے خوش نصیب شخص تریپن سالہ مارک اوریگر ہیں جنہیں ٹیومر تھا جو اب اس علاج کے ذریعے ختم ہوگیا۔ علاج نے انہیں اپنی بیٹی کی شادی میں شریک ہونے کے قابل بنا دیا۔ امریکہ کے نیشنل کیسنر انسیٹیوٹ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے اس بات کا مظاہرہ بھی کیا کہ دفاعی خلیوں میں تبدیلی کر کے انہیں چھاتی، جگر اور پھیپھڑوں کے سرطانوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ترمیم شدہ خلیے پندرہ دیگر مریضوں میں بھی زندہ رہے اور اپنا کام کرتے رہے لیکن سرطان کا خاتمہ نہیں کر سکے یعنی ان کے جسم میں سرطان پھیلانے والا مادہ زندہ رہا۔ اس تجرباتی علاج میں حصہ لینے والے مریضوں کے سرطان اتنے بگڑ چکے تھے کہ ان کے بارے میں اندازہ تھا کہ وہ صرف تین سے چھ ماہ تک زندہ رہیں گے۔اگرچہ ایسے سترہ میں سے صرف دو مریضوں کے جسموں میں علاج کے اٹھارہ ماہ بعد تک بھی سرطان پھیلنے والے خلیوں کا مکمل خاتمہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن ماہرین ان نتائج سے بھی بہت خوش ہیں کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیا علاج ممکن ہے۔ اس تجرباتی علاج میں ڈاکٹر سٹیفن روزنبرگ اور ان کی ٹیم نے سرطان کے متاثرہ مریضوں سے ’ٹی‘ قسم کے خلیے نکالے اور انہیں لیبارٹری میں نمو دیکر انہیں ملٹی پلائی کیا۔
اس کے بعد انہوں نے ایک وائرس کے ذریعے ’ریسپٹر‘ جینز ٹی سیل میں شامل کیئے۔ یہ ریسیپٹر جینز ترمیم شدہ ٹی خلیوں کو اس قابل بناتے ہیں کہ سرطان کی شناخت کر سکیں۔ بعد میں جب ان ترمیم شدہ ٹی خلیوں کو مریضوں کے جسموں میں واپس رکھا گیا تو انہوں نے سرطان پھیلانے والے خلیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ علاج کے دو ماہ بعد ترمیم شدہ ٹی سیل مریض کے جسم میں گردش کرنے والے ٹی خلیوں کا دس فیصد تک ہو جاتے ہیں۔ اب سائنسدان ان طریقوں پر غور کر رہے ہیں جن کے ذریعے ترمیم شدہ ٹی خلیوں کی بڑی تعداد کو مریضوں کے جسم میں زندہ رکھا سکے۔ تریپن سالہ مارک اوریگر کے علاج سے ان کا جلد کا سرطان مکمل طور پر ختم ہو گیا جبکہ ان کے جگر کا ٹیومر سکڑ کر اتنا چھوٹا ہو گیا کہ اسے آسانی سے آپریشن کے ذریعہ کاٹ کر جسم سے نکال لیا گیا۔ علاج کے بعد انہوں نے گزشتہ سال اپنی بیٹی کی شادی میں بھی شرکت کی اور اب ڈاکٹروں نے کہا ہے ان کے جسم میں ایک بھی سرطان زدہ خلیہ نہیں ہے۔ دوسرے مریض جن کا علاج کامیاب رہا کے جسم میں کینسر جگر اور پھیپھڑوں تک پھیل چکا تھا۔ اس نئے علاج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مشہور کیسنر سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل سیڈالین نے کہا ’تکنیکی لحاظ سے یہ یقیناً ایک بہت بڑا قدم ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا زیادہ سے زیادہ مریضوں کے لیئے قابل استعمال بنانے کے لیئے اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ دیگر ماہرین کے علاوہ برٹش سکن فاؤنڈیشن کے ترجمان اور جِلد کے امراض کے ماہر ڈاکٹر ایڈل ٹولی نے بھی اس تجرباتی علاج پر قدرے محتاط تبصرہ کیا ہے۔ ’میرا خیال ہے کہ دو مریضوں کا صحت مند ہو جانا ایک حوصلہ مند بات ہے لیکن پندرہ مریضوں کا ٹھیک نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔‘ واضح رہے کہ ’ملیگننٹ میلانوما‘ جِلد کے سرطان کی سب سے بری قسم ہے جس سے صرف برطانیہ میں ہر سال آٹھ ہزار نئے لوگ متاثر ہوتے ہیں بلکہ ایک ہزاد آٹھ سو اموات بھی ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں بائیں ہاتھ والیوں میں چھاتی کا کینسر26 September, 2005 | نیٹ سائنس سرویکل کینسر کی نئی دوا متعارف09 June, 2006 | نیٹ سائنس چھاتی کے سرطان پر قابو پانا ممکن17 December, 2005 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||