اندھےپن کی وجہ، دو جین دریافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق بینائی ختم ہونے کے لگ بھگ تین چوتھائی واقعات انسانوں میں پائے جانے والے صرف دو جین سے تعلق رکھتے ہیں۔ سائنسی جریدے ’نیچر جینیٹِکس‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کو امید ہے کہ ان کی اس دریافت سے اندھےپن کے علاج کے بہتر طریقے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ ایج ریلیٹیڈ مکیولر ڈیجنیریشن یعنی اے ایم ڈی ہر سال پوری دنیا میں عمررسیدہ لوگوں میں بینائی کے خاتمے کی اہم وجہ ہے۔ اے ایم ڈی کا مطلب ہے کہ آنکھ کے تِل سے آہستہ آہستہ روشنی جانے لگتی ہے۔ ماضی میں سائنسدان یہ سمجھتے رہے کہ فیکٹر ایچ نامی ایک جین کی کئی اقسام اے ایم ڈی کی وجہ بنتے ہیں۔ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی تازہ تحقیق میں فیکٹر ایچ کے علاوہ دوسرے جینوں پر بھی توجہ دی ہے۔ فیکٹر ایچ جسم میں ایک ایسے پروٹین پر حاوی ہوتا ہے جو انفیکشن سے نمٹنے کی قوت مدافعت کو بےکار کردیتا ہے۔ جن لوگوں کے جسم میں وراثتی طور پر فیکٹر ایچ ہوتی ہے وہ بڑھاپے میں اے ایم ڈی کا شکار ہوجاتے ہیں یعنی ان کی بینائی ختم ہونے لگتی ہے۔ تاہم ماضی میں سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ تین میں سے ایک شخص فیکٹر ایچ کے باوجود اے ایم ڈی کا شکار نہیں ہوتا ہے۔ اب نئی تحقیق میں فیکٹر بی نامی ایک جین کی بھی شناخت کی گئی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے تیرہ سو افراد کا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ فیکٹر ایچ قوت مدافعت کو نقصان پہنچاتا ہے لیکن فیکٹر بی نامی جین قوت مدافعت کو بہتر کرتا ہے۔ لیکن اس تحقیق میں اہم بات یہ ہے کہ یہ دونوں جین ایک دوسرے کے لیے تکمیلی کردار انجام دیتے ہیں: مطلب یہ کہ اگر فیکٹر ایچ کسی شخص میں موجود ہے اور اسے بینائی کے خاتمے کا خطرہ ہے تو فیکٹر بی اس کے خلاف قوت مدافعت فراہم کرتا ہے۔ دونوں جین ایک دوسرے پر منحصر ہونے کی وجہ سے اپنا کردار تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیکٹر ایچ موجود ہونے کے باوجود تین میں سے ایک شخص اندھا نہیں ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے پتہ چلایا ہے کہ چوہتر فیصد افراد میں، جو اے ایم ڈی کا شکار تھے، فیکٹر ایچ یا فیکٹر بی یا دونوں جین موجود تو تھے لیکن ان کی کوئی ایسی قسم موجود نہیں تھی جو انہیں قوت مدافعت فراہم کرتی۔ لہذا اب نئی تحقیق کی بنیاد پرسائنسدانوں کا خیال ہے کہ بینائی کے خاتمے کے تین چوتھائی واقعات کی وجوہات کا تعلق فیکٹر ایچ اور فیکٹر بی کے اقسام سے ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس جنیاتی دریافت سے نابینا لوگوں کے لیے علاج کے نئے طریقے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں اندھے پن کا علاج پالک سے30 April, 2004 | نیٹ سائنس نئے جین کی دریافت08 November, 2004 | نیٹ سائنس ویاگرا: نابینا ہونے کے رسک پر تحقیق27 May, 2005 | نیٹ سائنس سگریٹ کا دھواں اندھا کر سکتا ہے20 December, 2005 | نیٹ سائنس بینائی واپس آ سکے گی30 January, 2005 | نیٹ سائنس نابیناؤں کے لیے بائیونک آنکھ 05 April, 2005 | نیٹ سائنس آنکھ جھپکنے سے دماغ بند26 July, 2005 | نیٹ سائنس آنکھ میں ہیرے کے دل پر تنازع12 April, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||