نابیناؤں کے لیے بائیونک آنکھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسی بائیونک یا مصنوعی آنکھ بنائی ہے جس سے بینائی سے محروم لوگ دیکھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ایک کمپیوٹر چپ پر مشتمل یہ آنکھ عینک میں نصب ویڈیو کیمرے سے منسلک ہوگی۔ عینک میں لگا ہوا کیمرہ دیکھنے والے وجود کی شکل کو چپ پر منتقل کرے گا جو اسے ایسے اشاروں میں تبدیل کرے گا جنہیں ذہن پڑھ سکے گا۔ یہ آنکھ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر گیسلین ڈاگنیلی نے بنائی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انسانوں میں اس کے تجربات ایک سال کے اندر شروع ہو سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس آنکھ کے پیدا کیے ہوئے عکس بالکل مکمل تو نہیں ہوں گے لیکن اتنا ضرور ہو گا کہ ایک بالکل اندھا انسان چہروں کی شناخت کر سکے۔ اس مصنوعی آنکھ سے اس مریض فائدہ اٹھا سکیں گے جو بینائی کے عام مسائل سے دوچار ہیں۔ خیال ہے کہ برطانیہ میں ایسے مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ ہے۔ پروفیسر گیسلین ڈاگنیلی کا کہنا ہے ’ کہ عام لوگوں کے لیے شاید اس آنکھ سے بنائی ہوئی تصاویر محض خاکے ہوں تاہم ایک مکمل نابینا انسان کے لیے بہت اہم قدم ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ اس آنکھ کو اصل آنکھ کے قریب تر لانے میں کافی عرصہ درکار ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||