اندھے پن کا علاج پالک سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اندھے پن کی بعض اقسام کا علاج پالک کے ساگ سے کیا جا سکتا ہے۔ سائنسدان اب اس امکان پر کام کر رہے ہیں کہ پالک کے پتوں میں روشنی جذب کرنے والے ذرات کو نکال کر انسانی آنکھ کے پردے میں لگا دیا جائے۔ اب تک ٹیسٹوں سے پتہ چلا ہے کہ جب ان ذرات پر روشنی پڑتی ہے تو وہ روشن ہوجاتے ہیں۔ جریدے نیو سائنٹسٹ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ اس ٹکنیک کے ذریعہ کئی لوگوں کے پھر سے دیکھنے کے امکانات پیدا ہوجائیں گے تاہم ایسے افراد پھر بھی رنگوں میں تمیز نہیں کر سکیں گے۔ البتہ سائنسدانوں کو یقین ہے کہ یہ طریقہ برقیاتی یا الیکٹرانک ٹکنیک کا متبادل ثابت ہوگا۔ یہ مخصوص اندھا پن زیادہ تر ترقیافتہ ملکوں کے رہنے والوں میں پایا جاتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ اس نئے طریقہ کو قابل عمل بنانے کے لئے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||