| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی چائے یرقان بھگائے
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چین میں یرقانی کے علاج کے لئے استعمال کی جانے والی چائے جلد ہی مغرب میں بھی متعارف ہو سکتی ہے۔ امریکی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چینی میں کثرت سے استعمال کی جانے چائے ژن زوئی ہوانگ سے انسانی جسم میں اس خاص قسم کی رطوبت کا بننا بند ہو جاتا ہے جس سے یرقان کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ طبی تحقیق کے ایک مجلے میں شائع ہونے والی ایک مضمون میں امریکی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ یرقان کے علاج میں یہ چائے بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ یرقان نوزائیدہ بچوں میں عام ہے اور اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس کی وجہ کئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ مور اور بیلور کالج آف میڈیسن، ہوسٹن، ٹیکساس، میں کام کرنے والے ان کے رفقائے کار نے پتا لگایا ہے کہ چینی چائے سے جگر کا ایک اہم حصہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بلیروبن کو باہر دھکیل دے۔ بلیروبن خون کے سرخ خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہوموگلوبن کی توڑ پھوڑ میں ایک فاضل مادے کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانا ہے۔ بلیروبن کو جگر عام طور پر خود بخود باہر دھکیل دیتا ہے لیکن بیماری یا کسی اور وجہ سے یہ عمل رک جاتا ہے۔ جگر میں بلیروبن کے زیادہ مقدار میں اکٹھا ہو جانے کی وجہ سے جلد پیلی پڑ جاتی ہے اور آنکھیں سفید ہو جاتی ہیں۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کے جگر سے بلیروبن باہر نہیں نکل پاتا کیونکہ ایسے بچوں کے دل بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ یرقان سے متاثرہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ سے سورج کی روشنی میں رکھا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||