| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دمہ کی دوا سے موتیا کا خطرہ
نئی تحقیق کے مطابق سفوف کی شکل میں انہیلر کے ذریعے سانس کی نالی میں داخل کی جانی والی سٹیرائڈز سے بنی دوا کا طویل عرصہ تک استعمال موتیا کا باعث بن سکتا ہے۔ لندن سکول آف ہائیجن اینڈ ٹراپیکل مڈیسن کے محققین اکتیس ہزار افراد کے کوائف کی جانچ پڑتال کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے۔ ان میں سے گیارہ عشاریہ پانچ افراد ایسے تھے جنہیں امراض چشم بھی لاحق تھے اور یہ لوگ سانس کے ساتھ سٹیرائڈز استعمال کرتے تھے۔ جبکہ سات عشاریہ پانچ افراد ایسے تھے جو سٹیرائڈز تو سانس کے ذریعے استعمال کرتے تھے لیکن انہیں آنکھوں کی کوئی بیماری نہیں تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ سٹیرائڈز کا استعمال بالکل محدود رکھنا چاہئے۔
اس نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سانس کے ساتھ لیے جانے والے سٹیرائڈز کی مقداد جتنی زیادہ ہوگی آنکھوں میں موتیا اترنے کا خدشہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اس کے علاوہ طویل عرصے تک سٹیرائڈز کا استعمال بھی موتیا کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پنسٹھ سال سے زیادہ عمر کے دس میں سے ایک شخص کو دمہ یا سانس میں رکاوٹ کی شکایت ہوتی ہے اور عام طور پر انہیں سانس کے ذریعے لیے جانے والے سٹیرائڈز سے بنی دوا تجویز کی جاتی ہے۔ تاہم معالجین کا کہنا ہے کہ سٹیرائڈز کے فوائد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے استعمال میں احتیاط سے کام لیا جائے اور سندیافتہ معالج کے زیر علاج ہی سٹیرائڈز پر مبنی دوائیں استعمال کی جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |