سگریٹ کا دھواں اندھا کر سکتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بالواسطہ سگریٹ نوشی سے اندھے پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ’برٹش جرنل آف اوپتھامالوجی‘ کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری پر سگریٹ کے اثرات کا جائزہ لیا۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پانچ سال کے عرصے تک دھویں کے ساتھ رہنے سے اس بیماری کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے جبکہ تمباکو نوشی کرنے سے اس میں تین گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق سے کام کی جگہ اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگانے کے مطالبے میں مزید وزن پیدا ہو گیا ہے۔ تحقیق کاروں نے پہلے ہی یہ ثابت کر دیا ہے کہ سگریٹ نوشی سے نظر خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن اس مطالعے سے اس بات کا ثبوت مل گیا ہے کہ بالواسطہ تمباکو نوشی بھی اتنی ہی نقصان دہ ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ پیدا ہونے والی پٹھوں کی کمزوری عموماً پچاس سال کی عمر کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ اس سے آنکھ کے مختلف حصے متاثر ہوتے ہیں جو پڑھنے اور گاڑی چلانے کے لیے بہت اہم ہیں، تاہم ضروری نہیں کہ اس سے اندھا پن ہی واقع ہو جائے۔ برطانیہ میں اس وقت تقریباً پانچ لاکھ لوگ اس بیماری کا شکار ہیں۔ اس تحقیق کے دوران پٹھوں کی بیماری کا شکار چار سو پینتیس افراد اور دو سو اسی صحت مند افراد کی تمباکو نوشی کی عادات اور بیماری کے پیدا ہونے کے رجحان کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ تمباکو نوشی سے اس بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چالیس سال تک روزانہ ایک یا اس سے زیادہ سگریٹ پینے والوں میں اس بیماری کے امکانات تین گنا بڑھ جاتے ہیں جبکہ کسی سگریٹ پینے والے کے ساتھ پانچ سال سے زائد عرصہ کے لیے رہنا بیماری کے امکانات کو دوگنا کر دیتا ہے۔ تاہم تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کو تمباکو نوشی چھوڑے ہوئے بیس سال یا اس سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے ان میں بیماری کا خطرہ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے برابر رہ جاتا ہے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے ایک مصنف پروفیسر جان ییٹس کا کہنا ہے کہ اس مطالعے کی مدد سے تحقیق کاروں نے تمباکو نوشی اور اس بیماری کے درمیان براہ راست تعلق کو ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بیماری کا موجب بننے والے بہت سے ماحولیاتی مسائل میں سے تمباکو نوشی سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز ہے‘۔ ’رائل انسٹی ٹیوٹ آف بلائنڈ‘ کی سربراہ انیتا لائٹ سٹون کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی اہم معلومات ہیں اور ہمارے ادارے کے کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کے مطالبے کے لیے مزید ثبوت فراہم کر رہی ہیں‘۔ برطانیہ کی حکومت نے کام کی تمام جگہوں پر تمباکو نوشی پر پابندی کی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم شراب خانے اور پرائیویٹ ممبرز کلب اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ |
اسی بارے میں چمپانزی نے تمباکو نوشی چھوڑ دی04 October, 2005 | نیٹ سائنس خواتین: پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار13 September, 2005 | نیٹ سائنس سگریٹ کم ہوں یا زیادہ، موت22 September, 2005 | نیٹ سائنس آنکھ جھپکنے سے دماغ بند26 July, 2005 | نیٹ سائنس بینائی واپس آ سکے گی30 January, 2005 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||