سگریٹ کم ہوں یا زیادہ، موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناروے سے تعلق رکھنے والے محققین کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ ایک دن میں ایک سے چار سگریٹ پینے والوں کےدل کی بیماری میں مبتلا ہو کرمرنے کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقی کام کے مطابق تمبا کو نوشی کے مضر اثرات سے خواتین کے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس کےساتھ انتہائی کم مقدار میں سگریٹ پینے والے بھی دل کے ساتھ ساتھ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ دن میں تین سے چار مرتبہ سگریٹ پینے والے مرد و خواتین کا مقابلہ ان افراد سے کیا گیا جنہوں نے کبھی سگریٹ ہی نہیں پیا تو یہ بات سامنے آئی کہ تین سے چار مرتبہ سگریٹ پینےوالوں میں سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت دل کی شریانوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کاخطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔
دن میں ایک سے چار سگریٹ پینے والی خواتین میں پھپھٹروں کے سرطان سے مرنے کاخطرہ پانچ فیصد جبکہ مردوں میں پھپھڑوں کے سرطان سے مرنے کا خطرہ تین فیصد ہے۔ ایکشن آن سموکنگ اینڈ ہیلتھ سے تعلق رکھنے والی ایمنڈا سینڈفورڈ کا کہنا ہے کہ تحقیق نے ساری بات واضح کر دی ہے اور تین یاچار سگریٹ پینے والوں کو اس فرضی کہانی سے باہر لے آئے گی کہ تین یاچار سگریٹوں سےصحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سگریٹ پینے والے تمام افراد اپنی صحت کو خطرے کی لکیر پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دل، سرطان اور دوسری جان لیوا بیماریوں سے بچانے کا واحد راستہ تمباکو نوشی سےمکمل اجتناب ہے۔
محکمہ صحت کے اعدادو شمار کے مطابق ملک میں تمباکو نوشی سے ہرسال ایک لاکھ چھ ہزار افراد مر جاتے ہیں۔ یہ بات اس لیے تشویش ناک ہے کہ برطانیہ میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد سینتیس لاکھ ہے یعنی تمباکو نوشی کرنے والا ہر تیسرا شخص دن میں دس یا دس سے کم سگریٹ پیتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||