پاگل پن کےمریضوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محققین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مخبوط الحوس افراد کی تعداد بیس برس میں دوگنی ہو جاتی ہے۔ ایک سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی الزائمر ڈیزیز انٹرنیشنل کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہر ساتویں سیکنڈ پاگل پن کا ایک نیا کیس سامنا آتا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں چوبیس اعشارہ تین ملین افراد مخبوط الحواس ہیں اور ہر برس چار اعشاریہ چھ ملین نئے کیس سامنے آتے ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سنہ 2040 تک پاگل پن کے مریضوں کی تعداد اکیاسی اعشارہ ایک ملین تک پہنچ جائے گی۔ تحقیق کارروں کا کہنا ہے کہ صرف چین میں ہی پچاس لاکھ مخبوط الحواس افراد ہیں جبکہ مغربی یورپ میں اڑتالیس لاکھ اور شمالی امریکہ میں چونتیس لاکھ لوگ اس مرض کا شکار ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ مخبوط الحواسی کا شکار افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق ترقی پذیر خطے سے ہے اور اس خطے کے ممالک میں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت اس مرض کے پھیلاؤ میں تین سے چار گنا تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق سنہ 2040 میں صرف چین میں بقیہ دنیا کے برابر مخبوط الحواس افراد موجود ہوں گے۔ الزائمر ڈیزیز انٹرنیشنل کےسربراہ اورین ریڈ کا کہنا تھا کہ’ ہم ایک ٹائم بم پر بیٹھے ہیں اور حکومتوں کو اس سلسلے میں پالیسی سازی کا عمل شروع کر دینا چاہیے اور مستقبل کے لیے فنڈ مختص کرنے چاہییں‘۔ | اسی بارے میں سردی سے بچوں میں کینسر12 December, 2005 | نیٹ سائنس پاکستان: ایڈز کا شدید خطرہ21 November, 2005 | نیٹ سائنس انار مثانے کے کینسر میں مفید: تحقیق01 October, 2005 | نیٹ سائنس ہیپاٹائیٹس سی وائرس تیار12 June, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||