پاکستان: ایڈز کا شدید خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یو این ایڈز کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور پاکستان میں ایڈز کی بیماری کا وبا کی صورت اختیار کرنے کا شدید خطرہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس تباہ کن صورتحال کی وجہ خطرناک جنسی رویے اور سیکس ورکروں اور انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد میں ایڈز سے متعلقہ معلومات کا فقدان ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کراچی کے نشہ کرنے والوں میں اس بیماری کا پتہ چلایا جا چکا ہے۔ اور سنہ دو ہزار چار میں کیے گئے ایک سروے میں کراچی کے نشہ کرنے والوں میں سے تئیس فیصد افراد ایچ آئی وی کا شکار پائے گئے جبکہ سات سال قبل ایسے ہی ایک سروے میں صرف ایک شخص اس وائرس کا شکار پایا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وبا کا کراچی تک محدود رہنا ناممکن ہے کیونکہ بہت سے نشہ کرنے والے کراچی آنے سے قبل ملک کے دیگر شہروں میں رہائش پذیر تھے اور وہاں بھی استعمال شدہ سرنج کے ذریعے نشہ کر چکے ہیں۔ رپورٹ میں دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں میں ہر پانچ میں سے ایک سیکس ورکر کنڈوم کے متعلق نہیں جانتا جبکہ تین چوتھائی یہ نہیں جانتے کہ کنڈوم کی مدد سے ایڈز سے بچا جا سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے کی نمائندہ ڈاکٹر پورنیما مانی کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان میں ایڈز سے متعلق معلومات اور اعداد و شمار وزارتِ صحت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔ اقوام ِمتحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ میں تین ملین سے زائد افراد ایڈز سے متعلقہ بیماریوں سے ہلاک ہوئے جن میں سے پانچ لاکھ سے زائد بچے ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افریقی صحرائے اعظم کا جنوبی علاقہ اس مرض سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے اور ایچ آئی وی کے دو تہائی مریضوں یعنی پچیس اعشاریہ آٹھ ملین افراد کا تعلق یہاں سے ہے۔ دو ہزار پانچ میں افریقی صحرائے اعظم کے جنوبی علاقے میں دو اعشاریہ چار ملین افراد اس مرض سے ہلاک ہوئے اور مزید تین اعشاریہ دو ملین اس کے وائرس سے متاثر ہیں۔ دنیا بھر میں تقریبا چالیس ملین افراد ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور ان میں سے تقریبا پانچ ملین مریض سنہ دو ہزار پانچ میں اس مرض میں مبتلا ہوئے۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرقی اور وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ میں ایچ آئی وی کا مرض تیزی بڑھ رہا ہے۔ تاہم کچھ گروہوں میں اس مرض میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ان گروہوں میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے سیکس ورکر اور ان کے گاہک شامل ہیں۔ جن دوسرے گروہوں میں تعلیم اور احتیاطی کوششوں کی مدد سے اس مرض کی شرح میں کمی آئی ہے ان میں یوگنڈا اور سپین میں منشیات استعمال کرنےوالے اور برازیل اور دیگر مغربی ممالک میں مردوں کے مابین جنسی تعلقات رکھنے والے شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایچ ائی وی کے اینٹی ریٹرو وائرل علاج تک رسائی میں ڈرامائی طور پر بہتری آئی ہے اور دنیا بھر میں بہت سے افراد اس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ ان ادویات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب شمالی امریکہ اور مغربی یورپ کے صرف دولت مند ملکوں کے لوگ ہی نہیں بلکہ ارجنٹائن، برازیل اور چلی اور کیوبا جیسے ممالک کے اسی فیصد مریض بھی اس علاج سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے غریب ممالک میں صورت حال بہت خراب ہے۔ یواین ایڈز کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر پیٹر پیوٹ کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ایڈز کےمتعدی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی اور قومی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑے اور وسیع پیمانے پر احتیاطی پروگرام شروع کیے جائیں۔ |
اسی بارے میں ایڈز: دوائیں اور سیاست17 November, 2003 | نیٹ سائنس اینٹی بایوٹک سے ایڈز کا اعلاج19 November, 2004 | نیٹ سائنس مچھیروں میں ایڈز کے امکانات زیادہ 27 March, 2005 | نیٹ سائنس ختنے ایڈز سے بچاتے ہیں: رپورٹ26 July, 2005 | نیٹ سائنس ایڈز سے چھٹکارا پانےوالے پر تحقیق13 November, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||