BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 March, 2005, 09:45 GMT 14:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مچھیروں میں ایڈز کے امکانات زیادہ
 مچھیرے
مچھیروں میں جسم فروشی کی وجہ سے ایڈز کے امکانات زیادہ ہیں
ساری دنیا میں مچھیروں میں ایڈز اور ایچ آئی وی وائرس پھیلنے کے امکانات دس گنا زیادہ ہیں۔

یونیورسٹی آف ایسٹ انجلیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھیروں کے گاؤں اس مرض کے پوشیدہ شکار ہیں۔

مچھیروں کی برادریاں خاص طور پر اس مرض کا شکار ہو سکتی ہیں اس لیے کہ وہ ہر وقت رواں دواں رہتے ہیں، ان کے ہاں جسم فروشی عام ہوتی ہے اور خواتین کو کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ برادریاں روزانہ مارکیٹوں، زمینوں اور فیکٹریوں میں آتی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے جو بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ مقامی اور نچلی سطح تک محدود ہوتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ مچھیروں کو اس مرض سے نمٹنے اور معائنے کے لیے موبائل کلینک بنائے جائیں۔

سرکردہ ماہر ڈاکٹر ایڈورڈ ایلیسن کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک مچھیروں کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اسی لیے صورتحال اتنی گھمبیر ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مچھیروں کی بستیوں میں ایڈز اس لیے بھی تیزی سے پھیلتا ہے کہ وہاں نشہ اور شراب نوشی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

تھائی لینڈ میں پانچ میں سے ایک مچھیرہ ایچ آئی وی کے وائرس میں مبتلا ہے جبکہ عام آبادی میں اس مرض کی شرح ایک عشاریہ پانچ فی صد ہے۔

کمبوڈیا کے سہانوک ول علاقہ کے مچھیروں میں ایچ آئی وی سب سے زیادہ ہے اور ان کے ہاں جسم فروشی کے پیشے سے منسلک لوگوں میں اور بھی زیادہ ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد