بارشیں: کراچی میں چھ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بیشتر علاقوں میں بارش اور شمالی علاقہ جات میں برفباری کی وجہ سے ملک کے کئی حصوں میں معمولاتِ زندگی معطل جبکہ کراچی میں بارش کے نتیجے میں ہونے والے مختلف حادثات میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہر میں بارش سے متعلقہ حادثات میں چھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صفائی اور شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ صوبہ بلوچستان اور سندھ کے کئی شہروں میں دن بھر بارش کا سلسلہ جاری رہا اور صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں بارش کے نتیجے میں مکان گرنے سے ایک شحض ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ تربت کے ایک ٹرانسپورٹر ظریف شازی کا کہنا ہے کہ گوادر سے تربت اور تربت سے پنجگور جانے والی شاہراوں کے زیرِ آب آنے سے درجنوں مسافرگاڑیاں تین دنوں سے پھنسی ہوئی ہیں اور ان میں سوار سینکڑاوں مسافروں کو نکالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تاحال امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی گئی ہیں۔ بارش سے زیادہ متاثر ہونے والے مقامات میں کراچی اور صوبہ بلوچستان کے بیشتر علاقے شامل ہیں۔ حالیہ بارشوں سے پاکستان بھر میں نہ صرف سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں مقامی انتظامیہ کو کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ شہری حکومت کے اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
گزشتہ چھتیس گھنٹوں سے وقفے وقفے سے جاری بارش سے کراچی شہر کی مرکزی سڑکیں شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ اور ایم اے جناح روڈ زیر آب آگئی ہیں جس سے ٹریفک کا نظام سخت متاثر ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دو دن کے دوران کراچی میں پچاس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ کراچی کے علاوہ اندرون سندھ کے شہروں حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ، سکھر،جیکب آباد، گھوٹکی، سانگھڑ، بدین میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں بارش کا حالیہ سلسلہ پیر کی شام سے بتدریخ کم ہونے کا امکان ہے تاہم صوبہ پنجاب اور سرحد میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے منگل کی شام تک جاری رہے گا۔ شدید بارشوں سے برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ گوادر اور کراچی کو ملانے والی ساحلی شاہراہ اور کوئٹہ کوکراچی سے ملانے والی آر سی ڈی شاہراہیں مختلف مقامات سے ٹوٹ گئی ہیں اور اب تک چار پلوں کے گرنے کی بھی اطلاع ہے۔ محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق مکران ڈویژن اور جنوبی بلوچستان کے بعض علاقوں میں ایک سو ملی میٹر سے بھی زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ شمالی بلوچستان میں بارکھان اور ژوب میں زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی رات کوئٹہ شہر میں برف باری کی توقع ہے جبکہ زیارت، کان مہتر زئی اور کوئٹہ کے قریب پہاڑوں پر پہلے ہی برف باری ہو چکی ہے۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بوندا باندی اور بارش جاری ہے جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ملک کے دیگر شہروں کی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو اسلام آباد میں بیس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور بارش کا حالیہ سلسلہ منگل کی شام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کی وجہ سے متعدد راستے بند ہیں اور متبادل راستوں پر کیچڑ جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستانی کے شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں بھی بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک چترال اور مالم جبہ میں دو انچ کے قریب برف پڑ چکی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ان علاقوں میں برفباری کا یہ سلسلہ ابھی مزید دو دن جاری رہے گا۔ | اسی بارے میں سرحد بارشیں : چھ افراد بہہ گئے 22 August, 2006 | پاکستان اندرون سندھ بارشیں، 12 ہلاک09 September, 2006 | پاکستان بارشیں: حیدرآباد میں وبائی امراض15 September, 2006 | پاکستان آدھا حیدرآباد اب تک مفلوج ہے 15 September, 2006 | پاکستان 120 افراد ہلاک 37 ارب کا نقصان21 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||