بلوچستان: شدید بارشوں سے تباہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں تیز بارشوں سے سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور گوادر اور تربت کے درمیان کوئی پچیس مسافر گاڑیاں تین دنوں سے پھنسی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ مچھ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق مکران ڈویژن اور جنوبی بلوچستان کے بعض علاقوں میں ایک سو ملی میٹر سے بھی زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ شمالی بلوچستان کے علاقوں بارکھان اور ژوب میں ریکارڈ بارشیں ہوئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے افسر ضیاءالدین نے بتایا ہے کہ سوموار اور منگل کی درمیانی رات کوئٹہ شہر میں برف باری کا بھی امکان ہے۔ زیارت، کان، مہتر زئی اور کوئٹہ کے قریب پہاڑوں پر برف باری کے سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان بارشوں سے کئی کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور درجنوں مکانات گر گئے ہیں۔ مچھ میں کوئلے کی کان کے قریب ا ایک مکان گرنے سے ایک مزدور ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں ہونے والی بارشوں سے گوادر اور کراچی کو ملانے والی ساحلی شاہراہ اور کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی آر سی ڈی شاہراہ مختلف مقامات پر ٹوٹ گئی ہیں اور کوئی چار پلوں کے گرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تربت سے ایک ٹرانسپورٹر ظریف شازی نے بتایا ہے کہ گوادر اور تربت کے درمیان ندی نالوں میں طغیانی آنے سے کوئی پچیس سے تیس مسافر گاڑیاں تین دنوں سے پھنسی ہوئی ہیں اور ان گاڑیوں میں ایک اندازے کے مطابق سات سو سے آٹھ سو مسافر سوار ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجگور اور تربت کے درمیان سامی کور ندی کے پاس ستر کے قریب گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں جن میں بھی بڑی تعداد میں مسافر موجود ہیں۔ ظریف شازی نے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی کوئی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی گئیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقے میں مشینری وغیرہ پہلے سے موجود ہے لیکن حکومت توجہ نہیں دے رہی۔
ادھر ایران کی سرحد کے قریب واقع تحصیل ماشکیل میں شدید بارشوں سے، اس تحصیل کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے والی واحد سڑک بک کے مقام سے بہہ گئی ہے ۔ پسنی سے مقامی صحافی امام بخش بہار نے بتایا ہے کہ مکران ڈویژن کا راستہ ملک کے دیگر علاقوں کے علاوہ ایران سے بھی منقطع ہو گیا ہے جس سے روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مکران ڈویژن میں مختلف شہروں جیسے تربت گوادر ، پسنی ، بلیدہ اور دیگر شہروں کا آپس میں بھی رابطہ منقطع ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ شمالی بلوچستان میں کوئٹہ چمن شاہراہ مختلف مقامات پر سیلابی پانی آنے سے بند ہو گئی ہے، جبکہ کوژک ٹاپ پر برف باری کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ یاد رہے ان دونوں شاہراہوں پر مرمت کا کام عرصہ دارز سے جاری ہے لیکن کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ | اسی بارے میں بارشیں رحمت یا زحمت!28 July, 2006 | پاکستان تباہی کا منظر تصاویر میں18.02.2003 | صفحۂ اول پاکستان میں بارشیں24.05.2003 | صفحۂ اول تھر میں بارش کا چالیس سالہ ریکارڈ 26.07.2003 | صفحۂ اول بدین:بارش سے بائیس ہلاک27.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||