آدھا حیدرآباد اب تک مفلوج ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں آدھے شہر کی زندگی مفلوج ہے اور یہ سات اور آٹھ ستمبر کو ہونے والی 170 ملی میٹر بارش کا نتیجہ ہے۔ اس بارش کے نتیجے میں چار لا کھ کی آبادی کے علاقے لطیف آباد کے بعض حصوں میں اب تک کمر کمر بارش کا پانی کھڑا ہے اور اس میں تمام تر گندگی اور آلودگی بھی شامل ہے۔ ان علاقوں میں جہاں اب پانی ٹخنوں ٹخنوں ہے وہاں بھی یہی حال ہے۔ لطیف آباد سے ملحق محنت کشوں کی بستیاں کہیں برے حال میں ہیں اور اب تک کم و بیش ڈوبی ہوئی ہیں۔
یہ سب کجھ کیوں ہوا؟ یہ اس کی ایک طویل داستان ہے جو اسی شہر کے فراہمی آب اور نکاسی آب کے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ انیس سو اٹھہتر کے مارشل لا کا دور ہو یا جمہوریت، حکومت وفاقی ہو یا صوبائی یا اب ضلعی حکومت ہو، غرض مختلف ادوار کی ہر طرح کی حکومتیں اس صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔ 1947 سے قبل کا تلے اوپر قائم دو پہاڑیوں پر بسا ہوئے حیدرآباد کی تباہی کے دور اس وقت ہی آغاز ہو گيا تھا جب دوسری پہاڑی کے نشیبی حصے میں شہر کو وسعت دینے کے عمل کی ابتداء ہوئی تھی۔ ہمارا اجتماعی المیہ یہ ہے کہ جب ہم کسی بھی صورتحال سے نکل آتے ہیں یا ایک خاص حالات سے گزر جاتے ہیں تو ہم گزرے ہوئے واقعات اور تجربات پر دوبارہ غور ہی نہیں کرتے ہیں یا یوں کہیے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ہم 1978 میں ہونے والی بارش سے پیدا ہونے والے اسی قسم کے غیر معمولی حالات یا 1994 کی معمولی بارش سے ہی کچھ سیکھ لیتے اور نکاسی آب کے نظام میں مرحلہ وار ہی سہی کوئی بہتری لے آتے۔ مئی 2004 میں آلودہ پانی کے استعمال سے ہونے والی ساٹھ اموات کے بعد بھی ہم نے فراہمی آب اور نکاسی آب کے نظام پر سنجیدگی سے غور کر لیا ہوتا تو شہری آج کی صورتحال سے ہرگز دوچار نہیں ہوتے۔
یہاں تو عام لوگ کیا، حکمران بھی، ہر کا م کا ذمہ دار قدرت کو ٹھہرانے کے قائل ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں جب ضلع ناظم سے معلوم کیا گیا کہ وہ اس صورتحال کا ذمہ دار کسے تصور کرتے ہیں تو ان کا جواب تھا ’مجھ سے کیا کہلواکر فتوی لگوانا چاہتے ہیں‘۔ وہ ایسا کیا کہنا چاہتے تھے جس کے با عث انہیں فتوی کا خوف تھا؟ ان سے بہتر تو شاید کمر کمر تک گندے پانی میں محصور وہ ناخواندہ معمر خاتون تھیں جنہیں یہ ادراک تو تھا کہ یہ ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ وہ خاتون بداعمالیوں کو کسی اور معنی میں لے رہی ہونگی لیکن میں اسے غلط حکمت عملی، غلط منصوبہ بندی، غلط ترجیحات، غیر معیاری تعمیراتی کام اور غیرحقیقی اخراجات تک سب کچھ ہی لیا جا سکتا ہے۔ ادارہ ترقیات ہو، ادارہ برائے فراہمی آب اور نکاسی آب ہو یا ضلع حکومت کے کارندے، غرض ہر کوئی ایک ہی جواب دیتا ہے: قدرت خیر کرےگی، قدرت بہتر کرے گی۔
اول تو افسران صورتحال پر روشنی ڈالنے سے بوجوہ کتراتے ہیں۔ کھل کر بولنے سے اس لیئے ڈرتے ہیں کہ اپنی ملازمت کو کچے دھاگے سے بندھا ہوا تصور کرتے ہیں۔ منتخب نمائندے جو حکمرانوں کے ساتھ ہیں، وہ سوائے ’اور مالی مدد دو‘ کے علاوہ بات نہیں کرتے۔ حکومت مخالف نمائندے صورتحال کی ذمہ داری متحدہ قومی موومنٹ پر ڈالتے ہیں۔ وہ شاید اس لیئے کہ اس وقت باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ساری صورتحال سے نا قابل تلافی نقصان حالانکہ ان لوگوں کو ہوا ہے جو پانی میں ڈوبے ہوئے علاقوں میں محصور ہیں، بے بس ہیں، ان کی جائیداد کا نقصان ہوا ہے یا کاروبار تباہ ہوگیا۔ حکمران اور انتظامیہ ہیں کہ اصل معاملہ اور اس کے حل پر غور کرنے کے لیئے بھی تیار نہیں ہیں۔ فوج بھی میدان میں ہے لیکن ان کے اور سول اداروں کے درمیان کوئی قابل ذکر مربوط رابطہ موجود نہیں ہے۔ فوجی اب یہ جانتے ہیں کہ نالے، زیر زمین نالے اور پائپ لائنیں کہاں کہاں سے ناکارہ ہیں جن کے سبب بارش کے پانی کی بروقت اور مناسب رفتار سے نکاسی نہیں ہو سکی۔ جس میں برگیڈئیر مرتضی کے مطابق ابھی کچھ دن اور لگیں گے۔ برگیڈئیر مرتضی فوج کی اس ٹیم کے سربراہ ہیں جو نکاسی آب کی کوشش میں مصروف ہے۔ فوج کی دو دیگر ٹیم امدادی خوراک کی فراہمی اور صحت و صفائی کے معاملات دیکھ رہی ہیں۔
نکاسیِ آب کی کوشش ہو یا لوگوں کو طفل تسلی دینے کا عمل، یہ سب کچھ ایڈہاک ازم کی روایتی اور رواجی بنیادوں پر ہو رہا ہے۔ کیا یہ کم قابل افسوس بات ہے کہ ضلعی حکومت کے پاس کسی قسم کا کوئی تحریری منصوبہ تو درکنار، زیر زمین گزرنے والی پائپ لائنوں کا کوئی نقشہ بھی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ جہاں سے جس کا دل چاہ رہا ہے، نالے توڑ رہا ہے، سڑکیں کھود رہا ہے، نالے اور نالیاں بنا رہا ہے، پانی نکالنے کے لیئے پمپ لگا اور چلا رہا ہے۔ افراد کو تو چھوڑیں، ادارے تک، ’پانی ادھر ڈالو، پانی ادھر ڈالو‘ کی بنیاد پر پانی ایک علاقے سے نکال کر دوسرے علاقے میں ڈال رہے ہیں، نہ قبرستان چھوٹے ہیں نہ سکول و تعلیمی ادارے اور نہ ہی کھیل کے میدان۔ ایک ایسا بے ہنگم سلسلہ بے حسی ہے جسے دیکھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ بارش سے تو نقصان ہوا ہی تھا لیکن پانی نکالنے کی سعی میں جو نقصان ہو رہا ہے اس کا ازالہ طویل عرصے تک نہیں ہو سکے گا۔ |
اسی بارے میں بارشیں: حیدرآباد میں وبائی امراض15 September, 2006 | پاکستان اندرون سندھ بارشیں، 12 ہلاک09 September, 2006 | پاکستان حیدرآباد میں شدید بارش، فوج طلب08 September, 2006 | پاکستان پنجاب میں بارشیں، بیس ہلاک03 September, 2006 | پاکستان سرحد بارشیں : چھ افراد بہہ گئے 22 August, 2006 | پاکستان بارش کے بعد عام تعطیل، 25 ہلاک18 August, 2006 | پاکستان سندھ میں طوفانی بارش، 24 ہلاک17 August, 2006 | پاکستان کراچی: بارشوں سے ہنگامی صورتحال17 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||