بارشیں: حیدرآباد میں وبائی امراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد گزشتہ آٹھ روز سے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ شہر کے دو بڑے علاقوں لطیف آباد اور قاسم آباد میں پانچ سے سات فٹ پانی کھڑا ہے جس میں بدبو پیدا ہونے کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئے ہیں۔ آٹھ ستمبر کی بارش میں اب تک حیدرآباد میں آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں مکانات گر چکے ہیں۔ ملک بھر میں حیدرآباد واحد جگہ ہے جہاں مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد سِول انتظامیہ کو مدد کے لیے فوج کو طلب کرنا پڑا اور کشتیاں لائی گئیں تاکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو پانی سے نکالا جاسکے۔ تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود حکومت لطیف آباد اور حیدرآباد سے جمع پانی نہیں نکال سکی ہے۔ حیدرآباد شہر کے دو بڑے علاقے لطیف آباد اور قاسم آباد جزیرے کا منظر پیش کر رہے ہیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد شہر میں معمول بارش کا ریکارڈ تقریبا پونے دو انچ کا ہے۔ لیکن آٹھ ستمبر کو ایک ہی رات میں دس انچ بارش ہوئی۔
مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ لطیف آباد میں قائم ایک طبی کیمپ میں پندرہ سے اٹھارہ سو مریض پہنچ رہے ہیں۔ لطیف آباد سے پانی نکالنے کے لیے روڈ کاٹ کردو مقامات پر تین چار کلومیٹر لمبے نالے کھودے گئے ہیں۔ لیکن ڈھلوان نہ ہونے کی وجہ سے یہ ترکیب بھی کام نہ کرسکی ہے۔ اب پمپنگ مشینوں کے ذریعے ان نالوں سے پانی دریائے سندھ میں ڈالا جا رہا ہے۔ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ایک فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ’یہ احسان فراموشی والا کام ہے۔ ہم پر تنقید کی جاتی ہے کہ ہم ادھر ادھر کشتیاں چلاتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو کھانا، پینے کا پانی اور دوسری اشیاء نہیں پہنچا رہے ہیں۔‘ بارش کے دوسرے روز وزیراعلی سندھ ارباب غلاًم رحیم نے بھی حیدرآباد کا دورہ کیا لیکن وہ پانی میں نہیں جا سکے۔ پیپلز پارٹی مطالبہ کر رہی ہے کہ ضلعی حکومت لوگوں کی مدد کرنے اور پانی کی نکاسی میں ناکام رہی ہے لہذا اسے استعفی دینا چاہیے۔ سندھ آباد کار بورڈ کا کہنا ہے کہ سندھ کے دس اضلاع حیدرآباد، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، میرپورخاص، سانگھڑ، عمرکوٹ، نوابشاہ ٹھٹہ اور بدین میں بارش کی وجہ سے بڑی تباہی آئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ریلیف کمشنر سندھ کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر حیدرآباد شہر سے برسات کا پانی نکالا جائے۔ دو ججوں پر مشتمل عدالت نے حکومتی اہلکاروں کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، پانچ اضلاع کے ڈی سی اوز، ریلیف کمشنر اور دیگر اہلکاروں کو ایک آئینی درخواست پر طلب کیا تھا۔ ریلیف کمشنر نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ہفتے کے اندر بارش کا پانی نکال کردیا جائے گا۔ | اسی بارے میں حیدرآباد کے کئی علاقے زیر آب10 September, 2006 | پاکستان کراچی: بارشوں سے ہنگامی صورتحال17 August, 2006 | پاکستان اندرون سندھ بارشیں، 12 ہلاک09 September, 2006 | پاکستان کوئٹہ کے لیئے ٹرین سروس معطل27 August, 2006 | پاکستان بارش کے بعد عام تعطیل، 25 ہلاک18 August, 2006 | پاکستان سندھ: جان لیوا بارشیں، 30 ہلاک01 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||