BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 September, 2006, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارشیں: حیدرآباد میں وبائی امراض

لطیف آباد اور قاسم آباد سب سے زیادہ متاثر ہیں
سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد گزشتہ آٹھ روز سے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ شہر کے دو بڑے علاقوں لطیف آباد اور قاسم آباد میں پانچ سے سات فٹ پانی کھڑا ہے جس میں بدبو پیدا ہونے کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئے ہیں۔

آٹھ ستمبر کی بارش میں اب تک حیدرآباد میں آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں مکانات گر چکے ہیں۔ ملک بھر میں حیدرآباد واحد جگہ ہے جہاں مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد سِول انتظامیہ کو مدد کے لیے فوج کو طلب کرنا پڑا اور کشتیاں لائی گئیں تاکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو پانی سے نکالا جاسکے۔

تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود حکومت لطیف آباد اور حیدرآباد سے جمع پانی نہیں نکال سکی ہے۔ حیدرآباد شہر کے دو بڑے علاقے لطیف آباد اور قاسم آباد جزیرے کا منظر پیش کر رہے ہیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔

حیدرآباد شہر میں معمول بارش کا ریکارڈ تقریبا پونے دو انچ کا ہے۔ لیکن آٹھ ستمبر کو ایک ہی رات میں دس انچ بارش ہوئی۔

فوج سے مدد طلب کرنی پڑی
 آٹھ ستمبر کی بارش میں اب تک حیدرآباد میں آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں مکانات گر چکے ہیں۔ ملک بھر میں حیدرآباد واحد جگہ ہے جہاں مونسون کی حالیہ بارشوں کے بعد سِول انتظامیہ کو مدد کے لیے فوج کو طلب کرنا پڑا اور کشتیاں لائی گئیں تاکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو پانی سے نکالا جاسکے۔
شہر میں ایک ہفتے سے زائد عرصے تک پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے زیرآب علاقوں میں پینے کے پانی اور راشن کی کمی پیدا ہوگئی ہے جسے کوئی بھی حکومتی ادارہ پورا نہیں کر پا رہا ہے۔

مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ لطیف آباد میں قائم ایک طبی کیمپ میں پندرہ سے اٹھارہ سو مریض پہنچ رہے ہیں۔

لطیف آباد سے پانی نکالنے کے لیے روڈ کاٹ کردو مقامات پر تین چار کلومیٹر لمبے نالے کھودے گئے ہیں۔ لیکن ڈھلوان نہ ہونے کی وجہ سے یہ ترکیب بھی کام نہ کرسکی ہے۔ اب پمپنگ مشینوں کے ذریعے ان نالوں سے پانی دریائے سندھ میں ڈالا جا رہا ہے۔

امدادی سرگرمیوں میں مصروف ایک فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ’یہ احسان فراموشی والا کام ہے۔ ہم پر تنقید کی جاتی ہے کہ ہم ادھر ادھر کشتیاں چلاتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو کھانا، پینے کا پانی اور دوسری اشیاء نہیں پہنچا رہے ہیں۔‘

بارش کے دوسرے روز وزیراعلی سندھ ارباب غلاًم رحیم نے بھی حیدرآباد کا دورہ کیا لیکن وہ پانی میں نہیں جا سکے۔ پیپلز پارٹی مطالبہ کر رہی ہے کہ ضلعی حکومت لوگوں کی مدد کرنے اور پانی کی نکاسی میں ناکام رہی ہے لہذا اسے استعفی دینا چاہیے۔

سندھ آباد کار بورڈ کا کہنا ہے کہ سندھ کے دس اضلاع حیدرآباد، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، میرپورخاص، سانگھڑ، عمرکوٹ، نوابشاہ ٹھٹہ اور بدین میں بارش کی وجہ سے بڑی تباہی آئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے ریلیف کمشنر سندھ کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر حیدرآباد شہر سے برسات کا پانی نکالا جائے۔ دو ججوں پر مشتمل عدالت نے حکومتی اہلکاروں کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا۔

عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، پانچ اضلاع کے ڈی سی اوز، ریلیف کمشنر اور دیگر اہلکاروں کو ایک آئینی درخواست پر طلب کیا تھا۔ ریلیف کمشنر نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ہفتے کے اندر بارش کا پانی نکال کردیا جائے گا۔

اسی بارے میں
حیدرآباد کے کئی علاقے زیر آب
10 September, 2006 | پاکستان
اندرون سندھ بارشیں، 12 ہلاک
09 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد