BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 September, 2006, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیدرآباد کے کئی علاقے زیر آب

لطیف آباد تک رسائی صرف گھوڑا گاڑی کے ذریعے ممکن ہے
سندھ میں دو روز قبل ہونے والی موسلا دھار بارشوں کا پانی اب تک حیدرآباد کے کچھ علااقوں میں کئی کئی فٹ تک کھڑا ہے اور لوگوں کے لیئے شدید مشکلات کا باعث ہے۔

اتوار کو بھی لطیف آباد کا آدھے سے زیادہ علاقہ زیر آب ہے اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں جن کی امداد کے لیئے رینجرز اور ایدھی کی کشتیاں وہاں موجود تو ہیں مگر بیشتر لوگ چوری کے ڈر سے اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں نہیں جانا چاہتے۔

کئی افراد کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان حالات میں بھی وہاں چوریاں ہوتی رہی ہیں۔

لوگ اس صورتحال پر مشتعل ہیں اور انہوں نے احتجاجاً ان سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور ٹائر جلائے جن سے وزراء اور حکام متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ دورے صرف ’تصویریں کھینچوانے اور کاغذی کارروائی پوری کرنے کے لیئے کیے جارہے ہیں‘۔

لطیف آباد تک رسائی صرف گھوڑا گاڑی کے ذریعے ممکن ہے۔ گھروں کی زمینی منزل مکمل طور پر ڈوبی ہوئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں پانی کی سطح کم ہونے کے بجائے زیادہ ہورہی ہے۔

فوج کے ایک بریگیڈیئر نے اس سوال پر کہ دو دن بعد بھی علاقے سے پانی کا نکاس کیوں ممکن نہیں ہوسکا ہے، کہا کہ ’یہ سول انتظامیہ اور ادارہ ترقیات حیدرآباد کی ذمہ داری ہے۔ فوج تو صرف ریلیف کے کاموں کے لیئے آئی ہے‘۔

سندھ کے وزیر اعلٰی ارباب غلام رحیم نے اتوار کو ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں سڑکیں خشک تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال بہت خراب ہے جسے بہتر بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

وفاقی وزیر ہائی ویز متاثرہ علاقوں کے دورے پر گئے تو مشتعل افراد نے سخت نعرہ بازی اور احتجاج کیا جس کے باعث وہ اپنا دورہ مختصر کرکے واپس چلے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے حیدرآباد کو ’آفت زدہ علاقہ‘ قرار دینے کی سفارش کریں گے تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس سے غرض نہیں کہ علاقے کو آفت زدہ کہا جائے یا نہیں، انہیں محض اس بات سے مطلب ہے کہ زیر آب علاقوں سے پانی جلد از جلد نکالا جائے۔

بارش سے صف ماتم
لاہور کی جان لیوا بارشیں
اسی بارے میں
پنجاب میں بارشیں، بیس ہلاک
03 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد