حیدرآباد کے کئی علاقے زیر آب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں دو روز قبل ہونے والی موسلا دھار بارشوں کا پانی اب تک حیدرآباد کے کچھ علااقوں میں کئی کئی فٹ تک کھڑا ہے اور لوگوں کے لیئے شدید مشکلات کا باعث ہے۔ اتوار کو بھی لطیف آباد کا آدھے سے زیادہ علاقہ زیر آب ہے اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں جن کی امداد کے لیئے رینجرز اور ایدھی کی کشتیاں وہاں موجود تو ہیں مگر بیشتر لوگ چوری کے ڈر سے اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں نہیں جانا چاہتے۔ کئی افراد کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان حالات میں بھی وہاں چوریاں ہوتی رہی ہیں۔ لوگ اس صورتحال پر مشتعل ہیں اور انہوں نے احتجاجاً ان سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور ٹائر جلائے جن سے وزراء اور حکام متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ دورے صرف ’تصویریں کھینچوانے اور کاغذی کارروائی پوری کرنے کے لیئے کیے جارہے ہیں‘۔ لطیف آباد تک رسائی صرف گھوڑا گاڑی کے ذریعے ممکن ہے۔ گھروں کی زمینی منزل مکمل طور پر ڈوبی ہوئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں پانی کی سطح کم ہونے کے بجائے زیادہ ہورہی ہے۔ فوج کے ایک بریگیڈیئر نے اس سوال پر کہ دو دن بعد بھی علاقے سے پانی کا نکاس کیوں ممکن نہیں ہوسکا ہے، کہا کہ ’یہ سول انتظامیہ اور ادارہ ترقیات حیدرآباد کی ذمہ داری ہے۔ فوج تو صرف ریلیف کے کاموں کے لیئے آئی ہے‘۔ سندھ کے وزیر اعلٰی ارباب غلام رحیم نے اتوار کو ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں سڑکیں خشک تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال بہت خراب ہے جسے بہتر بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ وفاقی وزیر ہائی ویز متاثرہ علاقوں کے دورے پر گئے تو مشتعل افراد نے سخت نعرہ بازی اور احتجاج کیا جس کے باعث وہ اپنا دورہ مختصر کرکے واپس چلے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے حیدرآباد کو ’آفت زدہ علاقہ‘ قرار دینے کی سفارش کریں گے تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس سے غرض نہیں کہ علاقے کو آفت زدہ کہا جائے یا نہیں، انہیں محض اس بات سے مطلب ہے کہ زیر آب علاقوں سے پانی جلد از جلد نکالا جائے۔ |
اسی بارے میں پنجاب میں بارشیں، بیس ہلاک03 September, 2006 | پاکستان سرحد بارشیں : چھ افراد بہہ گئے 22 August, 2006 | پاکستان کراچی: بارشوں سے ہنگامی صورتحال17 August, 2006 | پاکستان بارش کے بعد عام تعطیل، 25 ہلاک18 August, 2006 | پاکستان سندھ بارش: بچوں سمیت سولہ ہلاک31 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||