بارش کے بعد عام تعطیل، 25 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں تیزبارش سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہوگئی ہے اور شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہونے کے بعد حکومت نے کراچی اور حیدرآباد میں جمعہ کوعام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ کراچی ہوائی اڈے پر کئی پروازوں تاخیر سے روانہ ہوئیں اور شہر سے اندرون ملک ٹریفک معطل ہے۔ کراچی شہر کے ابھی دو ہفتے قبل ہونے والی بارش کے زخم ہرے ہی تھے کہ جمعرات کی بارش کے باعث بجلی، ٹیلیفون اور ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا جس سے شہریوں کو بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش سے موبائل فون کا نظام بھی شدید متاثر ہوا۔ ہزاروں افراد جمعرات کی شام کئی گھنٹے تک پانی اور ٹریفک میں پھنسے رہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کئی لوگ گھروں کو نہیں پہنچ سکے ہیں۔ جمعہ کی صبح سڑکوں پر جمع کئی کئی فٹ پانی میں شہریوں کی سینکڑوں گاڑیاں لاوارث کھڑی نظر آرہی تھیں۔ شدید بارش سے سرکاری محکمے بے بس نظرآ رہے ہیں۔ ملیر ندی میں طغیانی کے بعد رات ملیر ندی سے کورنگی جانے والی سڑکوں کو آمدرفت کے لیئے بند کر دیا گیا ہے۔ سرجانی ٹاؤن میں خدا کی بستی کو خالی کرانے کے لیئے کہا گیا ہے۔ کراچی میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر لوگ راہ چلتے بجلی کے کرنٹ کا نشانہ بنے۔ یہ اموات ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، فیروزآباد، کلفٹن پل، لیاری، گلشن اقبال، صدر، جمشید کوارٹرز، بہادرآباد، ناظم آباد، سائٹ اور ملیر کے علاقوں میں ہوئی ہیں۔ سول ہسپتال کراچی میں ایمرجنسی وارڈ میں آدھے سے زائد ڈاکٹر غیر حاضر تھے۔ ڈریسنگ روم میں چھت ٹپکنے سے بارش کا پانی جمع ہوگیا۔ بعض جگہوں پر تار شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ سے دیواروں میں کرنٹ آ گیا۔ تاہم کرنٹ سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ عملے نے تار کاٹ کرصورتحال پر قابو پالیا۔
کلفٹن انڈر پاس، کے پی ٹی انڈر پاس پانی بھر جانے کی وجہ سے بند کردیئے ہیں۔ زیر تعمیر انڈر پاسز میں پانی بھر گیا ہے۔ کراچی کے دیہی علاقوں گوٹھ جہان آباد، فقیر آباد، اور غنی مینگل میں مکانات گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ریلوے ٹریفک معطل اندرون ملک سے آنے اور جانے والی ٹرینوں کو حیدرآباد اور کوٹڑی سٹیشنوں پر روکا گیا ہے، جہاں سے مسافر بسوں کے ذریعے مزید سفر طے کر رہے ہیں۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز تک ایک مرتبہ پھر سے ریلوے نظام بحال ہوجائیگا مگر سخت بارش کی وجہ سے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ پاکستاان اور بھارت کے درمیان چلائی جانے والی تھر ایکسپریس بھی حیدرآباد سے روانہ ہورہی تھی جبکہ بھارت سے آنے والی پہلی ٹرین بھی کراچی کے بجائے حیدرآباد پہنچ رہی ہے۔ سندھ بھر میں بارش کا سلسلہ جمعرات کی سہہ پہر کو شروع ہوا جو کئی گھنٹے مسلسل جاری رہا۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق جمعرات کو شہر میں 50 سے 75 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ جمعہ کے روز بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی۔ | اسی بارے میں سرحد میں بارشوں کا سلسلہ جاری07 August, 2006 | پاکستان دریا میں بہہ کر 10 ہلاک04 August, 2006 | پاکستان سندھ بارش: بچوں سمیت سولہ ہلاک31 July, 2006 | پاکستان لاہور میں بارش، چھ ہلاک 25 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||